پولیس عدالتی اجازت کے بغیر موبائل فون چیک نہیں کر سکتی، سیشن کورٹ لاہور کا فیصلہ

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کی ضلعی عدالت نے شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور دور رس اثرات کا حامل فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کے اختیارات پر واضح قانونی حد بندی عائد کر دی ہے۔

اپنے تحریری فیصلے میں ایڈیشنل سیشن جج لاہور شفقت راجہ نے قرار دیا ہے کہ پولیس کسی بھی شہری کا موبائل فون، اس میں موجود ڈیٹا، پیغامات، تصاویر یا سوشل میڈیا مواد عدالت کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چیک نہیں کر سکتی۔

عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ شہریوں کی نجی زندگی کا تحفظ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت ایک ناقابلِ تنسیخ بنیادی حق ہے، جبکہ اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کا حق آئین کے آرٹیکل 19 کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور پولیس کا ’مشینی مخبر‘: اب مصنوعی ذہانت چور ڈکیت پکڑوائے گی!

عدالتی فیصلے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے ان آئینی حقوق کو پامال کرنے کے مجاز نہیں اور کسی بھی شہری کی ڈیجیٹل تلاشی صرف قانونی طریقۂ کار کے تحت ہی ممکن ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج شفقت راجہ نے اپنے حکم میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عدالتی اجازت کے بغیر موبائل فون کی تلاشی غیر قانونی تصور ہوگی، اور ایسی کسی بھی کارروائی میں ملوث افسران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ شہریوں کو ہراساں کرنے یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مزید پڑھیں:لاہور پولیس کی برق رفتار کارروائی، خاتون سے گاڑی چھیننے والے ملزمان گرفتار

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف شہریوں کے ڈیجیٹل پرائیویسی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ کوئی ادارہ یا فرد آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پولیس کی کارروائیوں میں شفافیت بڑھے گی اور شہریوں کا نظامِ انصاف پر اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔

عدالتی حلقوں میں اس فیصلے کو ڈیجیٹل دور میں شہری آزادیوں اور نجی زندگی کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں