لاطینی امریکا کی مچھلی سکھر میں پکڑی گئی، ماہرین کو تشویش لاحق

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاطینی امریکا کی مچھلی سکھر میں پکڑی گئی ہے، جس نے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کو ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق 4 جنوری کو سکھر سے کراچی فش ہاربر لائی گئی ایک عجیب مچھلی نے ماہرین کی توجہ حاصل کرلی۔ ماہرین نے تحقیق کے بعد مچھلی کی شناخت ایمازون سیل فن کیٹ فش کے طور پر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عجیب و غریب مچھلی نے خاتون کو حیران کر دیا

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا کہنا ہے کہ ایمازون سیل فن کیٹ فش کا تعلق لاطینی امریکا سے ہے اور یہ ایک حملہ آور غیر ملکی نسل سمجھی جاتی ہے۔ ادارے کے مطابق سندھ اور زیریں پنجاب کے آبی علاقوں میں غیر ملکی مچھلیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ غیر ملکی مچھلیاں مقامی مچھلیوں کو خوراک کے طور پر کھا جاتی ہیں اور آبی ماحول میں نئی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہیں، جس سے مقامی ماہی گیری اور قدرتی آبی نظام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دریائے نیلم کی ٹراؤٹ مچھلی میں جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی مچھلیوں کی درآمد فوری طور پر روکی جائے تاکہ مقامی آبی حیات اور ماحولیاتی توازن کو محفوظ رکھا جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، جے ڈی وینس، وٹکاف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے، سی این این

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا