.
.
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ یعنی بی سی بی اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ قومی ٹیم آئندہ آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا سفر نہیں کرے گی، چاہے ریاستی سطح پر سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش ہی کیوں نہ کی جائے۔
بی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے باعث کھلاڑیوں، آفیشلز، صحافیوں اور شائقین کو بھارت بھیجنے سے منع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تنازع بڑھ گیا، ڈھاکہ میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد
اسی بنا پر کرکٹ بورڈ نے باضابطہ طور پر آئی سی سی سے درخواست کی ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں، جیسا کہ ماضی میں سیاسی یا سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پردوطرفہ دوروں کے دوران کیا جاتا رہا ہے۔
آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان آن لائن مذاکرات متوقع ہیں، تاہم ڈھاکہ کا مؤقف تاحال تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
BCB's firm stance has placed BCCI under significant organizational pressure.During today's online meeting,BCCI,through the ICC,proposed providing the Bangladesh team with state level security in India in an effort to address BCB's safety concerns.However,BCB remains unconvinced. pic.twitter.com/JLwI1xbcIy
— chill 🥂 (@Ghumacchi) January 6, 2026
تجویز میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز کسی دوسرے میزبان ملک میں منتقل کیے جائیں، کیونکہ اس ورلڈ کپ میں پاکستان کے میچز پہلے ہی سری لنکا میں شیڈول ہیں۔
یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب رپورٹس سامنے آئیں کہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے دھمکیوں کے باعث سیکیورٹی خدشات پر آئی پی ایل سے دستبردار کرالیا گیا۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان، شاہد آفریدی بول پڑے
بی سی بی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر ایک کھلاڑی کی حفاظت یقینی نہیں بنائی جا سکتی تو کھلاڑیوں، شائقین اور میڈیا پر مشتمل پورے وفد کے لیے خطرات کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
آئی سی سی کے ذریعے بھارتی حکام نے ریاستی سطح پر سیکیورٹی فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم بی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ہدایات کے خلاف نہیں جا سکتے۔
اگر آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی درخواست مسترد کردی اور بی سی بی نے ٹیم بھیجنے سے انکار کر دیا تو مخالف ٹیموں کو واک اوور مل سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی اجارہ داری ختم، ایشین کرکٹ کونسل کے مستقبل سے متعلق سابق پی سی بی چیف کا اہم دعویٰ
اگرچہ سخت پابندیوں کا امکان بھی موجود ہے، مگر بنگلہ دیشی حکام کو یقین ہے کہ عالمی کرکٹ ادارہ ان سیکیورٹی خدشات کی سنگینی کو تسلیم کرے گا۔
ادھر ٹورنامنٹ سے چند ہفتے قبل متعدد میچز کی منتقلی ایک بڑا انتظامی چیلنج ہو گی، جس کے لیے شیڈولنگ، براڈکاسٹنگ اور دیگر کرکٹ بورڈز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی درکار ہو گی۔
فی الحال بی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ کسی تصادم کے خواہاں نہیں، بلکہ صرف یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ کھلاڑی اور شائقین محفوظ ماحول میں مقابلہ کرسکیں۔













