لندن میں منعقدہ ایک مختصر تقریب کے دوران فلسطین کے سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا۔
فلسطین کے سفیر حسام زملوط نے مغربی لندن میں سفارتخانے کی عمارت کے باہر خطاب کرتے ہوئے اس موقع کو برطانیہ اور فلسطین کے تعلقات میں ایک ’انتہائی اہم سنگِ میل‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا برطانیہ، آسٹریلیا اور پرتگال کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم
’آج ہم ایک تاریخی لمحے کے گواہ بن رہے ہیں، برطانیہ کے لیے ریاستِ فلسطین کے سفارت خانے کے افتتاح کا، جسے مکمل سفارتی حیثیت اور مراعات حاصل ہوں گی۔‘
فلسطینی مشن کو باضابطہ طور پر سفارت خانے کا درجہ اس وقت دیا گیا جب برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ ستمبر 2025 میں ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرے گا۔
"Palestine is here. Palestine endures. Palestine will be free.”
Delighted to see the Embassy of the State of Palestine to the UK inaugurated today. It’s taken a while to see the mission upgraded to full Embassy status. But what a wonderful moment. ❤️ pic.twitter.com/557wRECSaJ
— Charlie Herbert (@Charlie533080) January 5, 2026
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب غزہ میں انسانی صورتحال پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس فیصلے میں آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔
روایتی سیاہ و سفید کفیہ اوڑھے ہوئے سفیر حسام زملوط نے کہا کہ یہ محض ’نام کی تبدیلی‘ نہیں بلکہ فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ’سمت کی تبدیلی‘ ہے۔
’ہم ایک نئے سال کا آغاز ایک ساتھ اس طرح کر رہے ہیں کہ برطانوی۔فلسطینی تعلقات اور فلسطینی عوام کے آزادی اور حقِ خودارادیت کے طویل سفر میں ایک اہم سنگِ میل رقم ہو رہا ہے۔‘
مزید پڑھیں: کولمبیا نے فلسطین میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کردیا
حسام زملوط نے سفارت خانے کی نئی تختی کی نقاب کشائی کرنے کے بعد مزید کہا کہ یہ امید کا اور ثابت قدمی کا دن ہے۔
’۔۔۔ایسا دن ہے جو دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ امن نہ صرف ممکن ہے بلکہ ناگزیر بھی ہے، جب وہ انصاف، وقار، برابری اور باہمی تسلیم شدگی پر مبنی ہو۔‘
برطانوی دفترِ خارجہ نے فوری طور پر اس سوال پر کوئی جواب نہیں دیا کہ آیا برطانیہ فلسطینی علاقوں میں برطانوی سفارت خانہ کھولنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرلیا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، فلسطینی اور برطانوی پرچموں کے درمیان کھڑے برطانیہ کے سفارتی نمائندے الیسٹر ہیریسن نے اس موقع کو ’امید کا لمحہ‘ قرار دیا۔
’یہ ہمارے دوطرفہ تعلقات میں ایک بنیادی تبدیلی کا آغاز ہے، میں سفیر اور ان کی ٹیم کو، جو اب آپ کا سفارت خانہ ہے، یہاں خوشگوار قیام کی خواہش اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘













