لاہور یونیورسٹی میں طلبا کی جانب سے خودکشی کے واقعات نے تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت، تعلیمی دباؤ اور انتظامی کوتاہیوں کو شدید تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
خود کشی کی ایک حالیہ کوشش کے واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس بند کرتے ہوئے تمام کلاسز آن لائن منتقل کردی ہیں۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے؛ 19 دسمبر 2025 میں ڈی فارمیسی کے ایک طالب علم اویس سلطان نے حاضری کی کمی اور مالی مسائل کی وجہ سے مبینہ طور پر خودکشی کرلی تھی۔
یونیورسٹی آف لاہور میں ایک طالبہ کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش، طالبہ کو فریکچرز آئے۔ خودکشی کی کوشش اسی مقام پر کی گئی جہاں گزشتہ دنوں ایک طالب علم نے خودکشی کی تھی۔!!! pic.twitter.com/JbAPayl4i2
— Nadir Baloch (@BalochNadir5) January 5, 2026
جس کے بعد گزشتہ روز یعنی 5 جنوری کو ایک اور طالبہ فاطمہ نے خودکشی کی کوشش کی۔
حالیہ واقعہ پر انکوئری کمیٹی تشکیل
طالبہ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش کے واقعے کے بعد یونیورسٹی آف لاہور کی انتظامیہ نے فوری طور پر کیمپس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور آج سے تمام کلاسز آن لائن ہوں گی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ طلبا کی حفاظت اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، اس کے علاوہ، واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک 8 رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور یونیورسٹی میں طالب علم کی خودکشی: واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟
کمیٹی کی سربراہی ڈین فیکلٹی آف لا جسٹس (ریٹائرڈ) محمد بلال خان کر رہے ہیں، جبکہ طالبہ فاطمہ کے کلاس فیلوز محمد عامر اور اسما ہان بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
فاطمہ نے خود کشی کی کوشش کیوں کی؟
5 جنوری 2026 کو یونیورسٹی آف لاہور کے ڈی فارمیسی ڈیپارٹمنٹ میں پہلے سمسٹر کی طالبہ فاطمہ نے عمارت کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق، یہ ایک مبینہ خودکشی کی کوشش تھی، اور ابتدائی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ وجہ ڈومیسٹک مسائل اور والدین کی طرف سے مضمون کے انتخاب پر دباؤ تھا۔
فاطمہ نے واقعے سے قبل اپنے گھر والوں کو فون کال کی تھی، جس میں وہ پریشان رہیں، خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ فاطمہ کو خاندانی تناؤ کا سامنا تھا۔
مزید پڑھیں: لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، کلاسز معطل
خودکشی کی کوشش میں زخمی فاطمہ کو فوری طور پر یونیورسٹی سے متصل ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں لاہور جنرل اسپتال لایا گیا، طبی رپورٹس کے مطابق، فاطمہ کی حالت تشویشناک ہے، کیونکہ وہ بے ہوش ہیں،۔
’سر میں شدید چوٹ آئی ہے، چھاتی میں ٹراما ہے کمر کی کچھ ہڈیاں اور گھٹنے میں فریکچر ہے، ریڑھ کی ہڈی اور پسلیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ وہ اب بھی آئی سی یو میں زیر علاج ہے‘
اسپتال نے ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی پروفیسر جودت سلیم کر رہے ہیں۔ بورڈ 24 گھنٹے کے اندر اپنی رپورٹ دے گا، زخمی فاطمہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
یہ واقعہ ٹھیک اسی جگہ پیش آیا ہے جہاں چند روز قبل ڈی فارمیسی کے طالبعلم اویس سلطان نے بھی چوتھی منزل سے جان لیوا چھلانگ لگائی تھی ۔
اویس سلطان نے کیوں خود کشی کی تھی؟
یونیورسٹی آف لاہور میں یہ خودکشی کا پہلا واقعہ نہیں، 19 دسمبر2025 میں، ڈی فارمیسی کے 5ویں سمسٹر کے طالب علم اویس سلطان نے یونیورسٹی کی عمارت کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی، اویس کی موت فوری طور پر واقع ہو گئی۔
اویس کو یونیورسٹی کی سخت حاضری پالیسی کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا تھا، ان کی حاضری 75 فیصد سے کم تھی، جس کی وجہ سے انہیں کلاسز سے نکالنے کی دھمکی دی گئی تھی اور سمسٹر ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
مزید پڑھیں: لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، کلاسز معطل
خاندان اور ساتھی طلبا کا کہنا ہے کہ اویس مالی مسائل کا بھی شکار تھے، کیونکہ فیس کی ادائیگی میں مشکلات تھیں اور حاضری کی کمی کی وجہ سے تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا تھا۔
یہ واقعہ یونیورسٹی میں طلبا کے احتجاج کا باعث بھی بنا، جس کے نتیجے میں ایک پروفیسر کو برطرف کر دیا گیا، اویس کی موت نے پاکستان کے تعلیمی نظام میں ذہنی صحت کی کمی کو اجاگر کیا، جہاں طلبا کو مالی اور تعلیمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف
یونیورسٹی آف لاہور کی انتظامیہ نے ان واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے کلاسز کو آن لائن منتقل کر دیا اور کیمپس کو عارضی طور پر بند کر دیا۔ رجسٹرار نے ایک بیان میں کہا کہ یونیورسٹی پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور طلبا کی ذہنی صحت کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
اویس سلطان کے کیس کے بعد، طلبا کے احتجاج پر ایک پروفیسر کو برطرف کر دیا گیا جسے کم حاضری پر تنبیہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ فاطمہ کے واقعے کے بعد، 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ڈومیسٹک مسائل ہیں، لیکن وہ طلبا کے ساتھ ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں اور کاؤنسلنگ سروسز کو بہتر بنایا جارہا ہے۔
طلبا کے بیانات اور ردعمل
طلبا نے ان واقعات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ سخت حاضری پالیسیاں، پروفیسرز کا رویہ اور ذہنی صحت کی عدم توجہی ان مسائل کی جڑ ہے، اویس کے دوستوں نے بتایا کہ وہ حاضری کی وجہ سے بہت پریشان تھا، اور یونیورسٹی نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔
فاطمہ کے کیس کے بعد طلبا نے ایک مرتبہ پھر احتجاج کرتے ہوئے آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے، لاہور یونیورسٹی کے طلبا نے کہا کہ یونیورسٹی میں کاؤنسلنگ کی سہولیات ناکافی جبکہ دباؤ بہت زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ کی خود کشی، پولیس کیا کہتی ہے؟
کئی طلبا نے خدشہ کا اظہار کیا کہ اگر پالیسیاں نہ بدلی گئیں تو ایسے واقعات جاری رہیں گے، انسانی حقوق گروپس نے بھی یونیورسٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبا کی شکایات سننے کے لیے محفوظ پلیٹ فارم بنائے جائیں۔
دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں
پولیس نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، فاطمہ کے کیس میں، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ یہ خودکشی کی کوشش لگتی ہے، سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے، اور ایک خصوصی پینل تشکیل دیا گیا ہے۔
’اویس سلطان کے کیس میں بھی تحقیقات جاری ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ سے بھی ہر پہلو پر تفتیش ہو رہی ہے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے ضمن میں اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ، تاہم تحقیقات مکمل ہونے پر تفصیلات سامنے آئیں گی۔














