چین کی ڈیپ سیک جو چیٹ جی پی ٹی جیسا چیٹ بوٹس بنانے والی نئی کمپنی ہے اس وقت عالمی سطح پر حکومتی نگرانی اور تشویش کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین دفاعی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیپ سیک کا استعمال کیسے کر رہا ہے؟
کمپنی نے جنوری 2026 میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ایسا اے آئی ماڈل بنایا ہے جو چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں کم قیمت اور تیز خدمات فراہم کرے گا۔
پرائیویسی اور سیکیورٹی خدشات
رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیپ سیک کی پرائیویسی پالیسی کے مطابق یہ کمپنی صارفین کی بہت سی ذاتی معلومات، جیسے اے آئی سے کیے گئے سوالات یا اپلوڈ کی گئی فائلیں، چین میں کمپیوٹرز پر ذخیرہ کرتی ہے۔ اس کے بعد مختلف ممالک نے اس کی ڈیٹا پروٹیکشن اور سیکیورٹی پالیسیوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔
سال2025 میں عالمی رد عمل کا جائزہ کچھ اس طرح ہے:
جنوری 2025
فرانس، اٹلی اور نیدرلینڈز نے ڈیپ سیک کے سسٹم اور پرائیویسی خطرات کا جائزہ لینے کا اعلان کیا۔
اٹلی نے تحقیق ختم کی لیکن کمپنی سے بینڈنگ کمیٹمنٹس حاصل کیں تاکہ صارفین کو گمراہ کن معلومات کے خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔
نیدرلینڈز نے صارفین کو محتاط رہنے کی ہدایت دی اور حکومت کے ملازمین کے لیے اس کا استعمال ممنوع قرار دیا۔
فروری 2025
آسٹریلیا نےڈیپ سیک کو تمام حکومتی ڈیوائسز پر استعمال کرنے سے روک دیا۔
بھارت نے اپنے ملازمین کو چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی تاکہ سرکاری معلومات کی حفاظت ہو سکے۔
مزید پڑھیے: چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک کا نیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈل V3.1 متعارف
جنوبی کوریا نے نئے ڈاؤن لوڈز پر پابندی لگا دی اور تائیوان نے حکومت میں ڈیپ سیک کے استعمال کو بند کر دیا۔
اپریل 2025
امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ نے ممکنہ پابندیوں پر غور کیا جس میں امریکی صارفین کو ڈیپ سیک تک رسائی سے روکنا بھی شامل تھا۔
مزید پڑھیں: کیا چینی ایپ ڈیپ سیک مصنوعی ذہانت کی دنیا میں انقلاب ہے؟
9 امریکی قانون سازوں نے پینٹاگون کو خط لکھ کر ڈیپ سیک سمیت دیگر چینی کمپنیوں کو چینی فوج کے ممکنہ تعلقات کی فہرست میں شامل کرنے کا کہا۔
جون 2025
جرمنی نے ایپل اور گوگل کو ہدایت دی کہ وہ ڈیپ سیک کو اپنی ایپ اسٹورز سے ہٹا دیں۔
جولائی 2025
چیک ریپبلک نے ملک کی پبلک ایڈمنسٹریشن میں ڈیپ سیک کے استعمال پر پابندی لگا دی۔
اگست 2025
7 امریکی ریپبلکن سینیٹرز نے وزارت تجارت سے کہا کہ وہ ڈیپ سیک اور دیگر چینی اے آئی ماڈلز کے ممکنہ ڈیٹا سیکیورٹی خطرات کا جائزہ لے۔














