امریکا 2 دہائی مڈل ایسٹ اور افغانستان میں مصروف رہا۔ اس دوران چین ویسٹرن ہیمسفئر میں لاطینی امریکا اور کیریبیئن اسٹیٹس میں اپنی پوزیشن مستحکم کرتا رہا۔
برطانیہ کی دی اسپیکٹیٹر نیوز سائٹ کے مطابق چین نے 20 سال میں 551 ارب ڈالر اس علاقے میں لگائے۔ چین نے سنہ 2005 سے جتنا ڈویلپمنٹ فائنانس اس ریجن میں فراہم کیا اس کا 44 فیصد صرف وینزویلا کو دیا گیا۔
امریکا کو کسی سوشلسٹ وینزویلا سے مسئلہ نہیں تھا اس کے فوجی طاقت بننے سے تھا۔ چینی انٹیلیجنس ملٹری ٹیکنالوجی وینزویلا پہنچ جائے، یہ امریکا کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ پینٹاگون کا حساب کتاب سیدھا تھا کہ شمالی وینزویلا سے ہوسٹن کا فاصلہ 3300 کلومیٹر ہے اور پانامہ کینال صرف 1100 کلومیٹر دور ہے۔ وار گیم صاف بتا رہی تھیں کہ تائیوان پر چینی حملے کے لیے امریکا اگر آگے آیا تو وینزویلا وہ جگہ ہوگی جہاں سے چین امریکی انٹرسٹ کو نشانہ بنائے گا۔
4 دسمبر کو صدر ٹرمپ کے دستخط سے وائٹ ہاؤس نے 33 صفحات پر مشتمل نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی جاری کی تھی۔ اس اسٹریٹجی میں ایک لائن یہ تھی کہ امریکا ویسٹرن ہیمسفیئر میں مونرو ڈاکٹرائن بحال کرے۔ جیمز مونرو امریکا کے 5ویں صدر تھے۔ انہوں نے ایک بیان دیا تھا جسے سنہ 1823 سے یاد رکھا جاتا ہے۔ اس بیان میں امریکا نے سپین کے زیر اثر براعظم امریکا کی ریاستوں کے آزادی حاصل کرنے کی حمایت کی تھی۔ اس بیان میں یورپ کو وارننگ بھی دی گئی تھی کہ وہ ویسٹرن ہیمسفیئر میں اپنی مزید کالونیاں بنانے سے باز رہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاتعلق اور اکتائی ہوئی جنریشن زی کے ونڈر بوائے ہی کرامتیں دکھا سکتے
امریکا کے 11ویں صدر جیمز پولک نے بعد میں اس بیان کو مونرو ڈاکٹرائن قرار دیا تھا۔ اسرائیلی نیوز سائٹ ہارٹز نے یہ سب تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ویسے ٹرمپ امریکا کے تمام صدور کو چریا ہی سمجھتا ہے لیکن جہاں اسے ضرورت محسوس ہوئی اس نے ایک سابق صدر کے ڈاکٹرائن کو ہی اپنا لیا۔
ویسٹرن ہیمسفیئر میں سارا براعظم امریکا اور اس کے 25 ممالک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ میں آئس لینڈ، آئرلینڈ، اسپین، پرتگال کے کچھ حصے، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور انگلینڈ کے کچھ مغربی حصے شامل ہیں۔ افریقہ سے مراکش، موریطانیہ، سینیگال، گیمبیا، گنی، لائبیریا، آئیوری کوسٹ اور سیرا لیون شامل ہیں۔ جبکہ افریقہ سے ہی برکینا فاسو، مالی، الجزائر اور ٹوگو کے کچھ علاقے بھی اس میں شامل ہیں۔ اوشیانا کے کچھ جزائر اور روس کا ایک چھوٹا سا خطہ چوکوٹکا بھی ویسٹرن ہیمسفئر میں آتا ہے۔
امریکا نے اگر ویسٹرن ہمسفیئر کو مونرو ڈاکٹرائن کے مطابق اپنا لیا ہے۔ تو اس سے امریکا کے آئندہ عزائم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکا نے یورپ کو روس کے ساتھ آپس میں ہی اک دوسرے سے کرو جو کرنا ہے کہہ کر انہیں ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ ٹرمپ گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکا کا حصہ بننے اور بنانے کی بات بھی کر چکا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان ایسے ہی ڈارلنگ نہیں بنا، محنتیں ہیں
ٹرمپ جب کچھ ایسا انوکھا کہتا ہے تو امریکی میڈیا کھوج میں لگ جاتا ہے کہ ٹرمپ کو یہ پٹی کس نے پڑھائی۔ ران لاڈر ارب پتی امریکی یہودی ہیں جو سابق سفارتکار رہے ہیں۔ 7 سال پہلے انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک کرسمس گزاری جہاں انہیں گرین لینڈ کو حاصل کرنے کا آئڈیا پیش کیا۔ وینزویلا آپریشن کا آئیڈیا پیش کرنے کا کارنامہ یو ایس سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے سر باندھا جا رہا ہے۔ روبیو ایک وقت میں ٹرمپ کے شدید ناقد اور مخالف رہے ہیں اب ٹرمپ ٹیم کے اہم رکن ہیں۔
مارکو روبیو کے والدین کیوبا سے امریکا آئے تھے۔ روبیو افغانستان اور عراق کی جنگوں کے حمایتی رہے ہیں۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے 2 دسمبر کو فاکس نیوز کو ایک انٹرویو ریکارڈ کرایا تھا۔ اس انٹرویو میں روبیو کا کہنا تھا کہ وینزویلا پورے خطے کے عدم استحکام کا باعث ہے۔ 80 لاکھ آبادی ہمسایہ ملکوں کو ہجرت کر چکی ہے۔ وینزویلا ایران کا فٹ گراؤنڈ اور حزب اللہ کا حمایتی بنا ہوا ہے۔ ایران اپنا جھنڈا ہمارے بیک یارڈ، وینزویلا میں گاڑ چکا ہے۔ اگر آپ امریکا فرسٹ پر فوکس ہیں تو شروعات اسی ہیمسفئر (خطے) سے کرنی ہوگی جہاں آپ رہتے ہیں۔ ویسٹرن ہمسفیئر کو امریکا اپنا حلقہ اثر مانتا ہے اور ٹرمپ کا خیال ہے کہ یہاں کوئی کارروائی کرنے لیے یو این سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔
حزب اللہ پر مختلف اوقات میں وینزویلا اور لاطینی امریکا میں اپنے قدم جمانے اور نیٹ ورک چلانے کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔ وینزویلا کے صدر کو اٹھا کر امریکا لائے جانے والے آپریشن کی مذمت کرنے میں حزب اللہ نے دیر نہیں لگائی تھی۔ ایران اور وینزویلا بارٹر کی بنیاد پر تیل کا تبادلہ کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کو بے اثر کرتے تھے۔ ایران نے اپنے ڈرون اور دفاعی پیدوار کی پروڈکشن وینزویلا شفٹ کی تھی ۔ 2025 میں ایران نے ریکارڈ تیل ایکسپورٹ کیا تھا۔
مزید پڑھیں: سینٹرل ایشیا کے لینڈ لاک ملکوں کی پاکستان اور افغانستان سے جڑی ترقی
وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کی بڑی وجہ ایران اور چین ہیں۔ وینزویلا کے صدر کی امریکی آپریشن میں پکڑے جانے سے پہلے لاطینی امریکا کے لیے چین کے خصوصی نمائندے چیوشیاوچی سے ملاقات کی تھی۔ وینزویلا کے حوالے سے ایک چینی آفیشل کے حوالے سے ٹیلی گراف کلکتہ میں بتایا گیا ہے کہ چین خود کو ایک قابل اعتبار دوست ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایران کے لیے وینزویلا میں امریکی کارروائی ایک بڑا سیٹ بیک ہے جس کے بعد ایران ایک اہم اتحادی سے محروم ہوا ہے اور اس کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












