نیپال اور بھارت کی سرحد کے قریب واقع شہر برگنج میں مسجد کی بے حرمتی اور مسلمانوں کی املاک پر حملوں کے بعد حالات سنگین ہو گئے ہیں، جس کے پیش نظر حکام نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیپال میں لینڈنگ کے دوران رن وے سے پھسلنے والا طیارہ بڑی تباہی سے بچ گیا، 55 مسافر محفوظ
میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز ہندو انتہا پسند عناصر نے برگنج میں واقع ایک مسجد پر دھاوا بولا، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی، جس کے نتیجے میں مقامی مسلمان شدید غم و غصے میں مبتلا ہو گئے۔
مسجد کی بے حرمتی کے خلاف عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مظاہروں کے دوران پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔

صورتحال کے بگڑنے کے بعد حکام نے دارالحکومت کٹھمنڈو سے تقریباً 130 کلومیٹر جنوب میں واقع اس شہر میں کرفیو نافذ کر دیا۔ انتظامیہ کے مطابق شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے، اجتماعات اور مظاہروں کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:ماؤنٹ ایورسٹ پر کوڑے کے انبار، نیپال نے صفائی کے لیے 5 سالہ منصوبہ بنا لیا
سرکاری احکامات میں سیکیورٹی فورسز کو کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی، حتیٰ کہ فائرنگ کے اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔













