نائیجریا میں مسلح گروہوں نے ایک حملے کے دوران 30 سے زائد افراد کو قتل اور متعدد کو اغوا کر لیا۔
یہ واقعہ اسی ریاست میں پیش آیا جہاں گزشتہ سال کے آخر میں سینکڑوں اسکول کے بچوں کو اغوا کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا نائیجیریا میں داعش کے خلاف فضائی حملہ، متعدد شدت پسند ہلاک
میڈیا رپورٹس کے مطابق، مسلح گروہ مغربی نائیجریا کی نائجر ریاست کے کابے ضلع میں واقع قصوان داجی گاؤں کے ایک بازار کو آگ لگا دی اور بعد ازاں دکانوں سے خوراک لوٹ لی۔
نائیجر ریاست کے پولیس ترجمان، واسیع ابیودن نے بتایا کہ مذکورہ حملے کے دوران 30 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کئی افراد کو اغوا بھی کیا گیا۔
Over 30 people were killed and several others, including children, were kidnapped by "bandits" in Nigeria's Niger state. The country has for years grappled with armed groups, known locally as "bandits," that raid villages and abduct people for ransom.https://t.co/iCHzkAjpPX
— DW News (@dwnews) January 4, 2026
صدر بولا تینوبو کے دفتر نے کہا ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر وہ ’دہشت گرد‘ تھے جو شمال مغربی نائیجریا میں امریکی فضائی حملوں کے بعد فرار ہو رہے تھے۔
یہ فضائی حملے کرسمس کے روز کیے گئے تھے اور ان کا ہدف داعش سے منسلک شدت پسند تھے۔
صدر تینوبو نے اپنے میڈیا مشیر بایو اونانوگا کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ حملہ آوروں اور ان کے مددگاروں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: نائیجیریا نے عیسائیوں کا قتل عام نہ روکا تو فوجی کارروائی کریں گے، ٹرمپ کی دھمکی
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے دیکھی گئی تصاویر میں بعض مقتولین کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے دکھائی دیے۔
نائیجریا میں یہ مسلح گروہ، جنہیں مقامی طور پر ’بینڈٹس‘ کہا جاتا ہے، اکثر تاوان کے لیے اجتماعی اغوا کرتے ہیں اور دیہات کو لوٹتے ہیں۔
نائیجر ریاست حالیہ مہینوں میں ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں شامل ہے۔
مزید پڑھیں: نائیجیریا میں جنگلی حیات کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا اعلان
نومبر میں مسلح گروہوں نے اسی ریاست میں ایک کیتھولک اسکول سے 250 سے زائد طلبا اور عملے کے افراد کو اغوا کر لیا تھا۔
حکام نے بعد میں انہیں 2 مرحلوں میں رہا کرنے کا اعلان کیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا تاوان ادا کیا گیا یا نہیں۔
تازہ حملہ اس گاؤں سے 20 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہوا جہاں سے طلبا اور اساتذہ کو اغوا کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: نائیجیریا: مسلح افراد نے 24 طالبات سمیت 30 افراد کو اغوا کر لیا
مقامی چرچ نے ہفتے کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے زائد بتائی ہے، جو پولیس کے اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔
نائیجریا کے وزیرِ اطلاعات محمد ادریس نے کہا کہ بازار پر حملے کے دوران گولیاں مذہب دیکھ کر نہیں چلائی گئیں۔
’ہلاک اور اغوا ہونے والوں میں مسلمان اور عیسائی دونوں پس منظر سے تعلق رکھنے والے تاجر، کسان، والدین اور اسکول کے بچے شامل تھے۔‘
مزید پڑھیں: نائیجیریا کے لیے بک کرائے گئے کنٹینر سے ایک کروڑ 82 لاکھ 57 ہزار 700 نشہ آور گولیاں برآمد
نائیجریا کی سیکیورٹی فورسز ملک کے مختلف حصوں میں درپیش چیلنجز کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
افریقہ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک متعدد تنازعات کا سامنا کر رہا ہے۔
جن میں طویل عرصے سے جاری جہادی بغاوت، مسلح گروہ، کسانوں اور چرواہوں کے درمیان جھڑپیں اور جنوب مشرقی علاقے میں علیحدگی پسند تحریکیں شامل ہیں۔
ان تنازعات میں مسلمان اور عیسائی دونوں مارے جا چکے ہیں۔













