وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے شہید بےنظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی پشاور کے کانووکیشن تقریب کے دوران وائس چانسلر کی جانب سے انگریزی زبان میں خطاب پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اردو میں تقریر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وائس چانسلر کی انگریزی میں تقریر انہیں پسند نہیں آئی، کیونکہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ انہوں نے واضح کیاکہ اگر آئندہ کسی تقریب میں انگریزی میں خطاب کیا گیا تو مجھے غصہ آ سکتا ہے۔
وی سی صاحبہ آپ نے انگریزی میں تقریر کی جو مجھے بالکل اچھی نہیں لگی۔ میں نے تمام یونیورسٹیز کو ہدایت کی ہے کہ ہماری قومی زبان اردو ہے اور تمام تقریریں اردو میں ہوں گی۔ میں یہ دوسری مرتبہ کہہ رہا ہوں اب تیسری بار مجھے غصہ آئے گا، سہیل آفریدی pic.twitter.com/ZtAYIZF021
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) January 7, 2026
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے صوبے کی تمام جامعات کو اردو زبان میں تقریر کرنے کی ہدایات دے چکے ہیں۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 14 ہزار سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسے آپریشنز شروع کرنے سے پہلے قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہاکہ آپریشنز کے آغاز سے قبل آفریدی قوم میں کوئی بھیک مانگنے والا نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کا دورہ کراچی، پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت طلب کرلی
انہوں نے کہا کہ آفریدی قوم نے پاکستان کے لیے بارہا قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی ملکی سلامتی کے لیے کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔














