آئی پی ایل نیلامی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں خریدے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان بی سی سی آئی کی ہدایت پر معاہدہ منسوخ کیے جانے کے بعد آئی پی ایل سے باہر ہو گئے ہیں۔
اس فیصلے کے ردعمل میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ
مستفیض الرحمان کے ساتھی کھلاڑی تنظیم ثاقب نے بھی آئی پی ایل کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے، بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق تنظیم ثاقب کا کہنا تھا کہ انہیں واضح طور پر معلوم نہیں کہ مستفیض ٰ کو آئی پی ایل سے کیوں نکالا گیا۔
Pleased to step up when it matters. Glad to contribute in the victory. Onto the next one. 👊🏻 pic.twitter.com/2IFwjJn0ge
— Mustafizur Rahman (@Mustafiz90) January 4, 2026
ان کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے ممکنہ طور پر سیاسی وجوہات ہو سکتی ہیں، تنظیم ثاقب سمجھتے ہیں کہ کرکٹ میں سیاست کو شامل نہیں ہونا چاہیے، بطور کھلاڑی وہ سیاسی پہلوؤں پر غور نہیں کرتے بلکہ آئی پی ایل کھیلنے کی خواہش کے تحت اپنے نام جمع کراتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ برس آئی پی ایل کے لیے نام بھیجنے سے قبل ایجنٹس اور ملک کے متعلقہ حکام سے مشاورت کی جائے گی۔
ادھر اطلاعات کے مطابق مستفیض الرحمان کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے معاہدہ ختم کیے جانے کے باوجود کسی قسم کا مالی معاوضہ ملنے کا امکان نہیں ہے، حالانکہ اس صورتحال میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: آئی پی ایل سےمستفیض الرحمان کا اخراج،بنگلہ دیش کا ٹورنامنٹ نشریات نہ دکھانے پر غور
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی پی ایل کھلاڑیوں کی تنخواہیں انشورنس کے تحت ہوتی ہیں، تاہم غیر ملکی کھلاڑیوں کو ادائیگی عموماً اسی صورت میں کی جاتی ہے جب وہ ٹیم کیمپ جوائن کرنے کے بعد یا ٹورنامنٹ کے دوران زخمی ہوں۔
ذرائع کے مطابق مستفیض الرحمان کا کیس انشورنس کے ان معیاری اصولوں کے تحت نہیں آتا کیونکہ انہیں نہ تو انجری کی بنیاد پر اور نہ ہی کرکٹ سے متعلق کسی وجہ سے ریلیز کیا گیا۔
اس لیے کولکتہ نائٹ رائیڈرز قانونی طور پر انہیں کسی قسم کی ادائیگی کی پابند نہیں ہیں۔













