نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 93 پیسے کمی کی منظوری دے دی ہے، جس سے ملک بھر کے صارفین کو ریلیف ملے گا۔
نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمی نومبر کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے، جس کا فائدہ صارفین کو جنوری کے بجلی کے بلوں میں دیا جائے گا۔
کن صارفین کو فائدہ ہوگا؟
اتھارٹی کے مطابق اس کمی کا اطلاق کراچی سمیت پورے ملک کے تمام صارفین پر ہوگا، تاہم لائف لائن صارفین اس ریلیف سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔
سی پی پی اے کی درخواست اور اربوں کا ریلیف
یہ فیصلہ اس کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے جب سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) نے نیپرا سے درخواست کی تھی کہ صارفین کو جنوری کے بلوں میں فی یونٹ 72 پیسے واپس کیے جائیں، جس سے صارفین کو 5.6 ارب روپے سے زائد کا مجموعی ریلیف مل سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں چاہتے ہیں حکومت بجلی کی خرید و فروخت میں پڑے ہی نہیں، وفاقی وزیر توانائی
فیول ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ کار
نیپرا ہر ماہ عالمی ایندھن کی قیمتوں اور بجلی پیدا کرنے کی لاگت کا جائزہ لے کر فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کرتا ہے، جس کا اثر بعد کے بلوں میں صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔
2026 کے لیے نئی اوسط بجلی ٹیرف کا اعلان
نیپرا نے جنوری تا دسمبر 2026 کے لیے بجلی کی نئی اوسط بنیادی ٹیرف 33.38 روپے فی یونٹ مقرر کر دی ہے، جو مسلسل اضافوں کے بعد صارفین کے لیے قدرے ریلیف تصور کی جا رہی ہے۔
مالی سال کے بجائے کیلنڈر سال کا نظام
اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے بجلی کے نرخوں کے تعین کا نظام مالی سال کے بجائے کیلنڈر سال کی بنیاد پر منتقل کر دیا ہے، اور نیا صارف ٹیرف یکم جنوری 2026 سے نافذ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے نیپرا کے فیصلوں سے اصلاحاتی عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے، وزارت توانائی نے تحفظات کا اظہار کردیا
نیپرا کے مطابق نیا ٹیرف جولائی تا دسمبر 2025 کے مقابلے میں 62 پیسے کم ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط ٹیرف 34 روپے فی یونٹ رہا۔
تاہم اس وقت ملک میں بجلی کی بنیادی قیمت 31.59 روپے فی یونٹ ہے، جس کے مقابلے میں نئی ٹیرف 1.79 روپے زیادہ ہے۔
ڈسکوز کے اخراجات اور فروخت کا تخمینہ
نیپرا کے مطابق 2026 کے لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی مجموعی مالی ضرورت 3 ہزار 379 ارب روپے ہے، جس میں 2 ہزار 923 ارب روپے بجلی کی خریداری
456 ارب روپے آپریشنل اخراجات اور منافع شامل ہیں۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سالانہ بجلی کی فروخت 101 ارب یونٹس متوقع ہے اور نئے ٹیرف کے ذریعے شعبے کی مالی ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔












