خیبرپختونخوا پر ایسی حکومت مسلط ہے جس کی سوچ محدود اور رویہ افسوسناک ہے، وفاقی وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس

جمعہ 9 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک غیرت مند، بہادر اور باوقار عوام کے حامل صوبے پر ایسی حکومت مسلط ہے جس کی سوچ محدود اور رویہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کی آڑ میں خواتین کو نشانہ بنانا نہ صرف شرمناک بلکہ بزدلی کی واضح علامت ہے، اور یہ طرزِ عمل کسی مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:پاک چین تعلقات وقت کی کسوٹی پر کھرے ثابت ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مسلم لیگ ن کے رہنما زاہد خان کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک خوبصورت صوبہ ہے جہاں کے عوام اپنی غیرت، بہادری اور مشکلات کے مقابل کھڑے رہنے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں، مگر بدقسمتی سے وہاں ایسی حکومت قائم ہے جس کی سوچ چھوٹی اور طرزِ سیاست نفرت انگیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان سب کا ہے، کوئی بھی لاہور یا کراچی جا سکتا ہے، لیکن لاہور جا کر خواتین پر ذاتی اور تضحیک آمیز حملے کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔

انہوں نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے حوالے سے استعمال کیے گئے الفاظ پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی مرد کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خواتین کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو نشانہ بنانا دراصل معاشرے میں موجود میسوجنی کی عکاسی ہے، جہاں کسی پر حملہ کرنے کے لیے سب سے پہلے عورت کو ہدف بنایا جاتا ہے، جو کہ نہایت شرمناک رویہ ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات کی جانب سے ایک خاتون وزیر کے بارے میں غیر مناسب گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے لوگ اپنی ہی بہنوں اور بیٹیوں کے احترام کا تصور بھی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ عورتوں پر حملہ کرنے والے دراصل اندر سے کھوکھلے اور بزدل ہوتے ہیں، اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بزدلی کا اظہار اکثر خواتین کو نشانہ بنا کر کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر واقعی کسی میں جرات ہے تو وہ دہشت گردی جیسے اصل مسائل پر کھل کر بات کرے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر اطلاعات وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن ہے، اور ریاست ان کا آخری دم تک تعاقب کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حوصلہ اور اعتماد افواجِ پاکستان، سیکیورٹی اداروں اور ان جوانوں پر مکمل یقین کی وجہ سے ہے جو ہر روز جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کے دفاع کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ کیس 2: عمران خان کی نئی سزا 90 ملین پاؤنڈ کیس کی سزا ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی، عطا تارڑ

انہوں نے کہا کہ یہ وہ سپاہی ہیں جنہیں ان کی مائیں اور اہلِ خانہ دعا کے ساتھ رخصت کرتے ہیں، اس امید پر کہ وہ وطن کا دفاع کریں گے، اور اگر شہادت نصیب ہوئی تو پرچم اور وردی کے ساتھ سرخرو ہو کر لوٹیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے ترسیلات زر کے بائیکاٹ کی اپیل کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں نے نہ صرف وطن سے وابستگی کا ثبوت دیا بلکہ ریکارڈ توڑ ریمیٹنسز بھیج کر ملکی معیشت کو مضبوط کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر، اسٹاک ایکسچینج، فارن ایکسچینج ریزروز اور بیرونی سرمایہ کاری جیسے تمام بڑے معاشی اشاریے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ترسیلات زر میں سالانہ بنیادوں پر 17 فیصد جبکہ منتھ آن منتھ بنیاد پر 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ایک سیاسی جماعت نے اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان ریمیٹنسز نہ بھیجیں، مگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس کال کو مسترد کرتے ہوئے پرانے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم اور حکومت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے صرف ریمیٹنسز ہی نہیں بھیجیں بلکہ پاکستان کے فارن ایکسچینج ریزروز میں نمایاں اضافے کا باعث بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کے پاس کئی ماہ کی درآمدات کے لیے امپورٹ کور موجود ہے، جو معاشی استحکام کی واضح علامت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شفیع جان کا ٹی ٹی پی کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے سے گریز، سلمان اکرم راجا نے مؤقف رد کردیا

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج اس وقت بہترین کارکردگی دکھا رہی ہے، ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اوورسیز پاکستانی اعتماد کے ساتھ پیسہ وطن واپس بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کے لیے حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے جبکہ پاکستان کی دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں پر تنقید کرنے والوں کو معیشت پر ان دوروں کے اثرات کو سمجھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں وزیراعظم جاتے ہیں وہاں پاکستان کی مصنوعات، تجارت اور سرمایہ کاری کی بات ہوتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا نے پاکستان کے لیے حلال گوشت اور چاول کے کوٹے میں اضافہ کیا، جو براہ راست سفارتی روابط کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے وفود، سربراہان مملکت اور صدور پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے پر بات کرتے ہیں۔ وزیراعظم کے دوروں کو غیر ضروری قرار دینے والوں کو چاہیے کہ وہ دعا کریں کہ وزیراعظم مزید دورے کریں کیونکہ ہر دورہ معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جب کسی ملک کی جانب سے پاکستان کو سرکاری دعوت دی جاتی ہے، گارڈ آف آنر دیا جاتا ہے اور جہازوں کے ذریعے اسکارٹ کیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کی عزت اور عالمی اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے روابط کے نتیجے میں دفاع، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھتا ہے، جو بالآخر ملکی معیشت کے استحکام کا سبب بنتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر یہ کہا جاتا تھا کہ تمہاری ثقافت، تمہاری تاریخ اور تمہارے معاملات ہم تم سے بہتر جانتے ہیں، لیکن اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرق بھی ناراض ہوا اور مغرب بھی۔ لوگوں کے ساتھ بدتمیزی کا رویہ اختیار کیا گیا اور پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو گیا، یہ سب ایک شخص کی انا کی وجہ سے ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کو نومبر 2025 میں 3.2 ارب ڈالر ترسیلات زر موصول، 5 ماہ میں مجموعی حجم 16.1 ارب ڈالر

انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے بڑے عالمی فورمز پر پاکستان کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا جا رہا ہے، چاہے وہ عالمی کانفرنسیں ہوں یا بڑے عالمی اجلاس۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ہر پاکستانی کے لیے عزت اور فخر کی بات ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ حال ہی میں پاکستان آنے والے اوورسیز پاکستانیوں کا جذبہ دیدنی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل کی ٹیموں کی نیلامی میں اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاروں نے شفاف طریقے سے حصہ لیا، جسے پوری دنیا نے دیکھا۔ ایک ٹیم ایک ارب 75 کروڑ روپے جبکہ دوسری ایک ارب 85 کروڑ روپے میں خریدی گئی، اور یہ سرمایہ ہر سال پاکستان آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سرمایہ کار گروپ کا تعلق آسٹریلیا سے ہے جبکہ دوسرے گروپ کے سربراہ 16 سال کی عمر میں حیدرآباد سے امریکا گئے تھے اور اب ٹیکساس میں مقیم ہیں۔ ان سرمایہ کاروں کا کہنا تھا کہ وہ یہ پیسہ امریکا یا آسٹریلیا میں بھی لگا سکتے تھے، لیکن انہوں نے جان بوجھ کر پاکستان میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ پاکستان اور کرکٹ کے ساتھ جڑے رہنا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق اوورسیز پاکستانی نہ صرف ترسیلات زر کے حوالے سے خوش ہیں بلکہ سرمایہ کاری پر بھی فخر محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سفر کے دوران جب پاکستانی پاسپورٹ امیگریشن پر پیش کیا جاتا ہے تو اب احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ اس ملک سے تعلق رکھتے ہیں جسے آج دنیا عزت کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال پہلے کبھی نہیں تھی۔

عطا تارڑ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اپنی انا کی نذر کیا، آج انہی کی جماعت کے افراد تنقید کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ بتائیں کہ خارجہ پالیسی کے میدان میں ان کی کیا کامیابیاں ہیں، اور خود ہی جواب دیا کہ ان کی کارکردگی صفر بٹا صفر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’مس انفارمیشن‘ آج کی دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں ایک بھی بڑا عالمی معاہدہ کرنے میں ناکامی رہی، جبکہ آج پاکستان کے ساتھ اہم دفاعی اور معاشی معاہدے طے پا رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، اقتصادی فریم ورک کے آغاز، ملائیشیا کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہونے والے مختلف معاہدوں کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ 2026 میں چین میں لینڈ کرنے والے پہلے غیر ملکی نائب وزیراعظم پاکستان کے تھے، اور چینی وزیر خارجہ کی جانب سے جن پہلے غیر ملکی مہمان کا خیرمقدم کیا گیا وہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم تھے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو پوائنٹ ٹو سمیت تمام اقتصادی فریم ورکس اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کو یہ مواقع اس کی معیشت کے پوٹینشل کی وجہ سے مل رہے ہیں۔

عطا تارڑ کے مطابق یہ پیش رفت ایک سنجیدہ قیادت کا نتیجہ ہے، چاہے وہ سیاسی قیادت ہو جو وزیراعظم شہباز شریف کی صورت میں موجود ہے یا عسکری قیادت جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پاکستان کو اب سنجیدگی اور احترام کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ملک میں معاشی بحالی کا عمل جاری ہے، سرمایہ کاری آ رہی ہے اور اعتماد بحال ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقتصادی بحالی کے ثمرات واضح ہو رہے ہیں اور ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ اس کا بڑا ثبوت ہے۔ صرف دسمبر کے مہینے میں 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو سال بہ سال بنیاد پر 17 فیصد اور ماہ بہ ماہ بنیاد پر 13 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ترسیلات زر کے بائیکاٹ کی ہر ممکن کوشش کی گئی، لیکن اوورسیز پاکستانیوں نے اس کے برعکس نہ صرف ریکارڈ ترسیلات بھیجیں بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری بھی جاری رکھی، جس پر وہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جرمن چانسلر کی ایران جنگ پر تنقید کے بعد امریکا کا جرمنی سے 5 ہزار فوجیوں کے انخلا کا اعلان

ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان

صدرِ مملکت آصف علی زرداری چین کا 5 روزہ سرکاری دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے

پنجاب حکومت کی ’اپنا کھیت اپنا روزگار‘ اسکیم: لیہ کے بے زمین کسان کیا کہتے ہیں؟

حالات کی ماری خواتین کو پرائے دیس ’جہنم‘ میں دھکیلنے، بلیک میل کرنے والا گروہ بے نقاب

ویڈیو

پنجاب حکومت کی ’اپنا کھیت اپنا روزگار‘ اسکیم: لیہ کے بے زمین کسان کیا کہتے ہیں؟

ایندھن کی خریداری میں ہڑبونگ: عوام کی گھبراہٹ کتنی بجا، ملک میں ایندھن کتنا باقی؟

پی ایس ایل: اسٹیڈیمز آباد ہونے پر رونقیں دوبالا، شائقین پرجوش

کالم / تجزیہ

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ

چندی گڑھ میں لاہوری