تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نائب صدر علامہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ ملک کو موجودہ سیاسی اور آئینی دلدل سے نکالنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا، کیونکہ پاکستان مزید محاذ آرائی اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان اس وقت جس تباہ کن صورتحال سے گزر رہا ہے، اس سے نکلنے کا واحد راستہ اجتماعی دانش اور مکالمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں، اختلافات ضرور ہیں، مگر اختلافات کی بنیاد پر ملک کو مزید نقصان کی طرف نہیں دھکیلا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، طارق فضل چوہدری
انہوں نے واضح کیا کہ ’5 بڑوں‘ کے بیٹھنے کی تجویز کو محدود دائرے میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں، مختلف مکاتب فکر کی قیادت، صوبائی نمائندے، اور آئینی اداروں سے وابستہ افراد بھی اس عمل کا حصہ ہوں تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔
علامہ ناصر عباس نے پارلیمنٹ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں کھل کر بحث ہونی چاہیے اور اجتماعی فیصلوں کے ذریعے پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مخصوص مواقع پر پارلیمنٹ میں آنا اور پھر چلے جانا مسائل کا حل نہیں، مستقل اور سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: احسن اقبال کا بیان حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کی بھونڈی کوشش ہے، پی ٹی آئی
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس تحریک کا مقصد تصادم نہیں بلکہ آئینی، قانونی اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی چاہتے ہیں کہ خدا نخواستہ ملک مزید تباہی کی طرف جائے۔
علامہ ناصر عباس نے اقتدار میں موجود قوتوں کو زیادہ ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ اصل ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ برداشت، وسعتِ نظر اور شائستگی کے ساتھ سیاسی عمل کو آگے بڑھائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور لوگ خوف کے بغیر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر جدوجہد مثبت، قانونی اور آئینی دائرے میں رہ کر کی جائے تو چاہے یہ راستہ طویل ہی کیوں نہ ہو، بالآخر کامیابی عوام کے حق میں ہی ہوگی۔













