ایران کے مختلف شہروں میں پُرتشدد مظاہرے جاری، ہلاکتوں کی تعداد 200 سے زائد ہوگئی

ہفتہ 10 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے پُرتشدد رخ اختیار کر گئے ہیں۔ مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 217 تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ، گرفتاریوں اور انٹرنیٹ بندش کے باعث ملک بھر میں کشیدگی برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایرانی اپوزیشن رہنما رضا پہلوی سے ملاقات سے انکار

عالمی ذرائع ابلاغ، بالخصوص معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں گزشتہ رات سے نمایاں شدت دیکھی گئی۔ مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران سرکاری و عوامی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے کم از کم 26 بینکوں، 25 مساجد، 2 اسپتالوں اور 48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ متعدد سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنز پر بھی حملے کیے گئے، جن میں کئی اہلکار زخمی ہوئے۔ پرتشدد واقعات کے دوران ایمبولینسوں، بسوں اور شہریوں کی گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ٹائم میگزین کے مطابق ایک ایرانی ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صرف تہران کے 6 اسپتالوں میں 217 مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں اکثریت گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں کی گئی۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 49 عام شہری شامل ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے تقریباً ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ احتجاج کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں اور کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر امریکی صدر کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کرائے کے عناصر کو برداشت نہیں کرے گا اور قوم سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

یہ بھی پڑھیں:مظاہرین ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے احتجاج کررہے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کا ایران میں مظاہروں پر بیان

ایرانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاستی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بیرونی مداخلت کو روکے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے داخلی معاملات پر امریکی بیانات کھلی مداخلت اور دھوکا دہی کے مترادف ہیں۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی بیان میں کہا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر نے احتجاج کو تشدد کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق غیر ملکی مداخلت ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے خلاف ہے اور ایرانی عوام کی اکثریت ریاست اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ، اسرائیلی فضائی حملے میں فری لانسر سمیت 3 صحافی جاں بحق

قدرتی تنوع اور ثقافتی ورثے کے ساتھ جازان شہر سعودی عرب کا اہم سیاحتی مرکز

ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں: یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا

ٹی20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کے واضح جواب کے باوجود بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کے مؤقف پر قائم

وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے حماد اظہر کو نوسر باز قرار دے دیا، مگر کیوں؟

ویڈیو

عمران خان قصہ پارینہ، سارے دروازے بند ہوگئے

5 جی اور پے پال کا انتظار ختم: وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے موبائل ٹیکسز میں کمی کی بھی خوشخبری سنادی

پشاور کی مارکیٹ جو بسنت کو رنگین بناتی ہے

کالم / تجزیہ

محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

ہمارے شہر مر رہے ہیں

’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا‘