وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے نیوٹیک کی حالیہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تکنیکی و فنی تربیتی پروگرامز کے نئے اہداف کا تعین کرنے اور اپرینٹس شپ قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ملک میں پیشہ ورانہ تربیت کے نئے ایکوسسٹم پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں نیوٹیک کے تحت جاری تربیتی پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھیں: آئی ٹی میں نوجوانوں کی تربیت، نیوٹیک یونیورسٹی کا کراچی چیمبر آف کامرس سے معاہدہ
اجلاس میں نجی شعبے کے تھرڈ پارٹی ویلڈیٹرز، صنعتی شعبے کے شراکت دار، چیمبرز آف کامرس، کاروباری ایسوسی ایشنز اور مصنوعی ذہانت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستانی افرادی قوت صلاحیتوں سے بھرپور ہے اور انہیں عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کے لیے نیوٹیک کے پروگرامز انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت دینے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی کھپت کے لیے وزارت خارجہ اور وزارت سمندر پار پاکستانی اقدامات کو تیز کریں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نیوٹیک کے تحت پاکستان کا پہلا اسکل بیسڈ بانڈ بھی جاری کیا جا چکا ہے، جس کے تحت نجی شعبے سے تربیت کے لیے نتائج کی بنیاد پر فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔
’ملک بھر میں 148 صنعتوں کو تربیتی پروگرامز میں شامل کیا گیا ہے اور مدرسہ جات میں بھی تربیت کے پروگرامز متعارف کرائے گئے ہیں۔‘
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس نیووٹیک کے ذریعے ایک لاکھ 46 ہزار افراد نے تربیت حاصل کی اور 15 ہزار سے زیادہ افراد کو بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز دی گئیں۔
’مجموعی طور پر 3 لاکھ سے زائد افراد تربیت حاصل کر چکے ہیں جبکہ 2 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد سعودی عرب میں اس تربیتی نظام کے تحت برسر روزگار ہوئے۔ مزید 350 سے زیادہ اداروں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرنے کا لائسنس جاری کیا گیا۔‘
وزیراعظم نے نیوٹیک کے بائیو میٹرک حاضری نظام اور آن لائن مانیٹرنگ کے نفاذ کو سراہا اور ہدایت کی کہ کارکردگی غیر اطمینان بخش اداروں کی رکنیت معطل کی جائے اور صوبائی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد تربیت حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی سطح پر طلب کے مطابق تربیت کی فراہمی اور نوجوانوں کو عالمی سرٹیفیکیشنز دینا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ میں اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟
اجلاس میں بتایا گیا کہ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت 10 ہزار سے زائد افراد کو صنعت کے مطابق تربیت دی گئی اور 2600 نئے اداروں کی رجسٹریشن کی گئی۔
وزیراعظم نے نیوٹیک کی موجودہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید بہتری کے لیے نئے اہداف کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔














