چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کی 3 رکنی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق کیسز کی سماعت کی، جبکہ جسٹس حسن اظہر رضوی بھی بینچ کا حصہ تھے۔
نجی کمپنی کے وکیل مرزا محمود خان نے مؤقف اختیار کیا کہ 2010 سے قبل شیئر ہولڈر کمپنیوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں تھا، تاہم 2010 کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 37 اے کے تحت سپر ٹیکس کا نفاذ شروع کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اپنی 70 فیصد سرمایہ کاری بینکوں سے قرض کی صورت میں حاصل کرتی ہیں اور حکومت کو ٹیکس اور بینکوں کو سود ادا کرنے کے بعد مالی سال کے اختتام پر اکثر نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ٹیکس کیس: ٹیکس کی شرح حد سے تجاوز کر رہی ہے، ایکسپورٹرز کمپنیوں کا مؤقف
جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ تو آپ اپنے بل بوتے پر کاروبار کریں۔
وکیل مرزا محمود خان نے جواب دیا کہ پاکستان میں شرح سود میں کمی سے چھوٹے کاروبار کو فروغ مل رہا ہے، تاہم بھاری ٹیکسوں کے باعث اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ سرمایہ کار سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔
وکیل نے مزید کہا کہ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ سپر ٹیکس منافع پر لگایا جا رہا ہے، لیکن عملی طور پر یہ ٹیکس مجموعی آمدن پرعائد کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا 5 سالہ صنعتی پالیسی کا اعلان، سپر ٹیکس میں 3 فیصد کمی
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کمپنی کی آمدن 500 ملین روپے ہو اور منافع 100 ملین روپے سے بھی کم ہو، تب بھی پوری آمدن پر سپر ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 10 فیصد سپر ٹیکس درحقیقت 67 فیصد ٹیکس کے برابر ہو چکا ہے، جبکہ ٹیکس صرف منافع پر لگایا جانا چاہیے۔
اس موقع پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سرمایہ کاری سے متعلق دوستانہ پالیسیاں بھی ہونی چاہییں۔
مزید پڑھیں: سپر ٹیکس سے متعلق قانون سازی میں تضاد، سپریم کورٹ میں اہم نکات سامنے آگئے
وکیل مرزا محمود خان نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ایک بوٹی کے لیے پورا بکرا ذبح نہیں کرنا چاہیے۔
بعد ازاں اینگرو کمپنی کے وکیل خالد جاوید خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کے دوران ادویات بنانے والی کمپنیوں کے علاوہ تقریباً تمام صنعتیں بند تھیں۔
جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ماسک بنانے والی کمپنیاں تو کام کر رہی تھیں، وکیل خالد جاوید خان نے جواب دیا کہ اس دوران کچھ ٹیکسٹائل کمپنیاں بھی کام کر رہی تھیں، لیکن اب ان کمپنیوں پر سپر ٹیکس نہیں جبکہ دیگر صنعتوں پر یہ ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: سپر ٹیکس کیسز: ایف بی آر کو تحریری جواب جمع کرانے کے لیے کل تک کی مہلت
وکیل خالد جاوید خان نے مؤقف اختیار کیا کہ آمدن کی بنیاد پر درجہ بندی کر کے سپر ٹیکس لگایا گیا ہے، جو امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
ان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے سپر ٹیکس کیسز کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، عدالت کو بتایا گیا کہ آئندہ سماعت پر سلمان اکرم راجہ اور فروغ نسیم اپنے دلائل پیش کریں گے۔














