پاکستان اس وقت محض دہشتگردی کی لہر نہیں، بلکہ ایک وجودی نوعیت کی جنگ کا سامنا کر رہا ہے، جس کی جڑیں افغانستان میں ریاستی ڈھانچے کی عدم موجودگی، غیر ریاستی عناصر، سیاست، جرائم و دہشتگردی کے خطرناک گٹھ جوڑ سے جا ملتی ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے وی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کو محض انفرادی تشدد یا سیکیورٹی ناکامی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک منظم جنگ کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں دہشتگردی کے 70 فیصد سے زائد واقعات میں افغان ملوث، سہیل آفریدی تاحال لاعلم
ان کے مطابق، ’جب ہم جنگ کو سیاست سے الگ کر دیتے ہیں تو ہم اس کی درست سمجھ کھو دیتے ہیں۔ جنگ دراصل قومی سیاسی اہداف سے جڑی ہوتی ہے، نہ کہ محض عسکری کارروائیوں سے۔‘
انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگز میں بار ہا اس نکتے پر زور دیا گیا ہے کہ دہشتگردی، سیاست اور مالی مفادات آپس میں مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دے چکے ہیں جو ریاستی رِٹ کو چیلنج کررہا ہے۔ ان کے بقول دہشتگردی کو اب نظریاتی کے بجائے معاشی اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نمایاں ہیں۔
زاہد محمود کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک فعال ریاست نہیں، بلکہ ایک ایسا خطہ بن چکا ہے جہاں جرائم پیشہ نیٹ ورکس، دہشتگرد تنظیمیں اور بین الاقوامی مفادات اکٹھے پنپ رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہونے والے متعدد ہائی پروفائل دہشتگرد حملوں میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا ایک تشویشناک حقیقت ہے، حتیٰ کہ حالیہ برسوں میں ایک افغان ڈپٹی گورنر کا بیٹا بھی خودکش حملہ آور نکلا۔
’افغانستان ہر اس گروہ کے لیے پناہ گاہ بن چکا جو خطے میں بدامنی پھیلانا چاہتا ہے‘
ان کے مطابق افغانستان میں برسوں کی جنگ، غیر ملکی مداخلت اور اچانک انخلا نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جس سے غیر ریاستی عناصر کو تقویت ملی۔ ’افغانستان اب ہر اس گروہ کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے جو خطے میں بدامنی پھیلانا چاہتا ہے۔‘
انہوں نے طالبان کے موجودہ طرزِ حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ان کا سب سے بڑا دشمن امن ہے، کیونکہ امن کی صورت میں انہیں عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا، جمہوری عمل، خواتین اور بچوں کے حقوق اور سماجی انصاف کی بات کرنی ہوگی، جو ان کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق اسی لیے افغانستان میں مسلسل کشیدگی کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کی ایک بڑی وجہ خراب طرزِ حکمرانی رہی ہے۔ زمین کے تنازعات، کمزور انتظامیہ اور ترقیاتی وسائل کے غلط استعمال نے شدت پسندی کو تقویت دی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں بعض انتظامی اور سیکیورٹی اقدامات کے باعث صورتحال میں جزوی بہتری آئی ہے۔
’دہشتگردی کو کسی ایک قومیت یا صوبے کا مسئلہ قرار دینا سب سے بڑی غلطی ہوگی‘
دفاعی تجزیہ کار نے خبردار کیاکہ دہشتگردی کو کسی ایک قومیت یا صوبے کا مسئلہ قرار دینا سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ ’یہ خیبرپختونخوا، بلوچستان یا کسی ایک علاقے کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے، جس میں ہمارے نوجوان، پولیس اور سیکیورٹی فورسز جانیں قربان کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی، آپریشن کا فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
گفتگو کے اختتام پر انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے مسائل کا حل جمہوریت، مؤثر حکمرانی اور سیاسی استحکام میں ہے۔ ان کے بقول ’سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی کے معاملے پر انتشار اور پولرائزیشن دہشتگردی ہی کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو ریاستی مفاد کے دائرے میں رکھنا ناگزیر ہے۔‘
انہوں نے نوجوان نسل، خصوصاً جین زی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی بقا ہی ان کے مستقبل کی ضمانت ہے، اور ایک مضبوط ریاست کے بغیر فرد بھی مضبوط نہیں ہو سکتا۔













