جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے زور دے کر کہا ہے کہ مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی۔ جماعت نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجرا کو حکومتی مکاری اور جمہوریت کی توہین قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں جماعت کے جنرل سیکریٹری حافظ عبدالرحمان سے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کی ایک اور کامیابی، مدارس رجسٹریشن آرڈیننس جاری کرنے کی منظوری
اس موقع پر مولانا فاضل عثمانی، مولانا مقصود الوری، حافظ زین العابدین، سلمان عارف، محمد شاہد اور دیگر جماعتی عہدیداران بھی موجود تھے۔
مولانا فضل الرحمان نے پارٹی رہنما قاری محمد طاہر کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔
انہوں نے کہاکہ مدارس پر دباؤ ڈالنا بیرونی ایجنڈا ہے جسے جماعت مسترد کرتی ہے اور حکمرانوں کو چاہیے کہ دینی اداروں کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھیں۔
جے یو آئی کے ترجمان نے کہاکہ صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجرا سے حکومتی عیاری نمایاں ہوگئی ہے اور اس سے صدر کے دفتر، پارلیمنٹ، سیاست دانوں اور جمہوریت کی توہین ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ حکومت نے چند روزہ اقتدار کے لیے آئین، اقدار اور جمہوریت کو نظرانداز کیا اور مستقبل میں پارلیمنٹ یا دستخطوں کی ضرورت بھی نہیں سمجھی جائے گی۔
ترجمان اسلم غوری نے کہاکہ جعلی اور جبری اکثریت کے حالات میں یہی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پی پی کے اقتدار کے شوق کی قیمت ہمیشہ عوام نے چکائی، اور موجودہ حکومتی اقدامات یہ ثابت کر رہے ہیں کہ حکمران صرف اپنی نوکری بچانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام کی کوئی پرواہ نہیں، اور پارلیمنٹ کسی آرڈیننس فیکٹری کا منظر پیش کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا
واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے صدر کے دستخط کے بغیر ایک آرڈیننس جاری کردیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی کے احتجاج پر واپس لے لیا گیا۔














