اسلام آباد کے شہریوں کو 2گھنٹوں کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت

بدھ 14 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد پولیس نے شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے 2 گھنٹوں پر مشتمل ٹریفک ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق آج دن 11:30 بجے سے 12:30 بجے تک کلب روڈ، مری روڈ اور ایکسپریس ہائی وے پر ٹریفک ڈائیورشنز نافذ کی جائیں گی۔

ترجمان نے بتایا کہ شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے متبادل راستوں کے طور پر سری نگر ہائی وے اور اندرون سروس روڈز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بعدازاں 2.30 تا 3.30 بجے دن تک بھی ٹریفک ڈائیورشنز نافذ ہوگی۔ ان اوقات میں سری نگر ہائی وے سرینا سے جی ٹین تک ڈائیورشنز لگائی جائیں گی۔

شہری متبادل جناح ایونیو، فیصل ایونیو اور اندرون سروس روڈز کا استعمال کریں۔

پولیس کے مطابق شہری کسی بھی ممکنہ پریشانی سے بچنے کے لیے 20 سے 25 منٹ اضافی وقت لے کر روانہ ہوں۔ اس دوران اسلام آباد ٹریفک پولیس کے افسران متعلقہ شاہراہوں پر تعینات ہوں گے تاکہ شہریوں کی رہنمائی اور مدد کی جا سکے۔

مزید معلومات یا کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری ٹریفک ہیلپ لائن 1915 یا پکار 15 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حنا جاوید قتل کیس: شوہر اور گھریلو ملازم 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

مشال خان کو کیسے مرد پسند نہیں، اداکارہ کا نجی زندگی کے بارے میں اہم بیان

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق فضل الرحمان کے مؤقف پر ناقدین کی سخت تنقید، ماضی یاد دلا دیا

بنوں میں قاری راشد کے قتل کا الزام پولیس امن کمیٹی پر، لواحقین کا تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ویڈیو

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟