جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے نئی صوبائی اکائیوں کے قیام کی تجویز پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے، تاہم ناقدین ان کے مؤقف پر سخت تنقید کررہے ہیں اور ان کو ماضی بھی یاد دلایا جارہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے نئے صوبوں سے متعلق فیصلہ زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مزید پڑھیں: متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟
انہوں نے کہا کہ فاٹا کا انضمام بھی امریکا کے دباؤ میں ہوا تھا، تو وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ نئے صوبوں کے قیام اور آج ملک میں جاری افراتفری کے پیچھے کوئی بیرونی دباؤ نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات ان کی سیاسی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کی گفتگو کے پیچھے خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ، سرکاری ٹھیکوں اور ان کے بیٹے کو دوبارہ حکومتی عہدہ دلانے سمیت سیاسی مفادات کا حصول کارفرما ہے۔
مخالفین کا الزام ہے کہ مولانا فضل الرحمان موجودہ سیاسی صورتحال میں اپنے اور اپنے خاندان کے لیے دوبارہ سیاسی اثر و رسوخ اور حکومتی حیثیت حاصل کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے ان کی جانب سے مختلف سیاسی معاملات پر سخت بیانات سامنے آرہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کے بعد وکی لیکس کی دستاویز بھی زیرِ بحث
مولانا فضل الرحمان کے بیرونی دباؤ اور سیاسی معاملات میں مداخلت سے متعلق بیان کے بعد ان کے سیاسی ماضی سے متعلق وکی لیکس پر موجود 2007 کی ایک امریکی سفارتی دستاویز بھی سوشل میڈیا پر دوبارہ زیر بحث آگئی ہے۔
27 نومبر 2007 کی اس امریکی سفارتی کیبل کے مطابق اس وقت کی امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی۔ دستاویز کا عنوان ’سفیر کی فضل الرحمان سے انتخابات پر گفتگو‘ درج ہے۔
دستاویز کے مطابق ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے اس وقت کی سیاسی صورتحال، انتخابات اور سیکیورٹی کے معاملات پر گفتگو کی۔
دستاویز کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے انتخابات کے بائیکاٹ کے بجائے ان میں حصہ لینے کا عندیہ بھی دیا تھا، جبکہ امریکی سفیر نے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے امریکی حمایت کا ذکر کیا تھا۔
مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مخالفین اب اس پرانی امریکی سفارتی دستاویز کو ان کے موجودہ بیان کے تناظر میں پیش کررہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک طرف مولانا فضل الرحمان بیرونی دباؤ اور ملک میں ہونے والی سیاسی پیشرفت میں ممکنہ بیرونی کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں، جبکہ 2007 کی مذکورہ امریکی سفارتی کیبل میں ان کی امریکی سفیر کے ساتھ سیاسی امور اور مستقبل کے اقتدار سے متعلق گفتگو کا ذکر موجود ہے۔
مزید پڑھیں: آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہییں، سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم
مخالفین اسی دستاویز کو بنیاد بنا کر مولانا فضل الرحمان کی موجودہ سیاسی پوزیشن پر تنقید کررہے ہیں اور ان کے ماضی کے سیاسی رابطوں کو آج کے بیانات کے ساتھ ملا کر سوالات اٹھا رہے ہیں۔













