پاکستان کو 2035 تک کلائمیٹ اہداف کے لیے 565.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت

جمعرات 15 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پاکستان کو قومی طور پر طے شدہ ماحولیاتی اہداف (NDC 3.0) حاصل کرنے کے لیے 2035 تک تقریباً 565.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، یہ معلومات ایک اعلیٰ سطحی کاروباری فورم میں سامنے آئیں جہاں ماحولیاتی مالیات اور ESG رپورٹنگ پر زور دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کلائمیٹ چینج ہماری سیاست، معیشت، سفارت سب کو متاثر کر رہی ہے

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تخمینہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کی جانب سے پاکستان گرین ٹیکسونومی (PGT) اور ESG ڈسکلوزر گائیڈ لائنز کے حوالے سے منعقدہ سیشن میں شیئر کیا گیا۔ اس فورم میں سینیئر کاروباری رہنما اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے اور انہوں نے پائیدار مالیات اور شفاف ESG رپورٹنگ کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ سرمایہ کاری کو متحرک کیا جا سکے اور پاکستان کی ماحولیاتی لچک مضبوط ہو۔

islamic-finance-climate-change-environemnt

فورم کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کے NDC 3.0 اہداف میں 17 فیصد غیر مشروط اور 33 فیصد مشروط گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی، الیکٹرک گاڑیوں کی 30 فیصد اضافہ شدہ اپنانا، اور 60 فیصد توانائی کی تجدیدی ذرائع کی طرف منتقلی شامل ہیں۔ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے گرین سرمایہ کاری کو متحرک کرنا ناگزیر ہے، جس کے لیے پاکستان گرین ٹیکسونومی اور مضبوط ESG رپورٹنگ فریم ورک کلیدی کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:کلائمیٹ فنانسنگ پر پاکستان سے بات چیت کامیاب، 1.3 ارب ڈالر ملیں گے، آئی ایم ایف

اس موقع پر ماہر موسمیاتی ضابطہ کار فرخ رحمان نے کہا کہ پاکستان گرین ٹیکسونومی کا ESG رپورٹنگ میں انضمام کاروباری اداروں کو قومی ماحولیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا نقشہ فراہم کرتا ہے۔ شفاف اور منظم رپورٹنگ سرمایہ کاری کو متوجہ کرے گی اور کمپنیوں کو ماحولیات اور سماجی اہداف میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دے گی۔

OICCI کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر میں جوابدہی اور پائیداری کو کاروباری حکمت عملی کے مرکز کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ESG ڈسکلوزرز اور PGT کے مطابق عملی اقدامات اپنانے سے کمپنیاں سرمایہ کاری حاصل کر سکتی ہیں، جدت کو فروغ دے سکتی ہیں، اور ماحولیاتی خطرات کے خلاف مزاحمت مضبوط کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ کلائمیٹ فائنانسنگ پر مذاکرات کے لیے تیار

فورم میں PGT کے تکنیکی معیار، سبسٹینشل کنٹریبیوشن ٹیسٹ، ڈو نو سگنیفیکینٹ ہرم اصول، اور کم از کم سماجی حفاظتی اقدامات پر بھی تفصیل سے بات کی گئی تاکہ کاروباری عمل اخلاقی اور ذمہ دارانہ ہو، جبکہ ESG رپورٹنگ کے بین الاقوامی معیارات جیسے GRI، ISSB اور TCFD کے تحت رپورٹنگ کے مراحل بھی شرکاء کو سکھائے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پولینڈ میں ایک شخص کی اندھا دھند فائرنگ،5 افراد ہلاک، درجن سے زیادہ زخمی

ایران کے زمینی اور بحری راستوں کی نگرانی بڑھانے کے لیے امریکا کا نئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

ایران کے ایٹمی راز بتانے والے کو 20 ملین ڈالر اور محفوظ پناہ دی جائے گی، امریکا کا اعلان

طالبان ترجمان ذبیع اللہ کا ’داعش‘ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد نکلا، 2 ہزار دہشتگردوں کی موجودگی برقرار

ایرانی شہری کو غیر قانونی پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے کا الزام، نادرا کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟