وفاقی آئینی عدالت میں خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 2019 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
وفاقی حکومت نے عدالت سے استدعا کر رکھی ہے کہ کے پی نارکوٹکس ایکٹ 2019 کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔
کیس کی سماعت جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس کریم خان آغا پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔
خیبر پختونخوا حکومت کا دائرہ اختیار پر اعتراض
سماعت کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے وفاقی آئینی عدالت: صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے درخواست دائر
کے پی حکومت کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی قانون سازی کے خلاف براہ راست آئینی عدالت میں درخواست قابلِ سماعت نہیں۔ صوبائی حکومت کے خلاف معاملہ سننے کا مجاز فورم ہائیکورٹ ہے۔
وفاقی حکومت کا مؤقف
اینٹی نارکوٹکس فورس کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 137، 90 اور 97 وفاقی حکومت کے اختیارات واضح کرتے ہیں۔ اس وقت معاملہ دو اسمبلیوں کا نہیں بلکہ دو حکومتوں کے درمیان تنازع ہے۔ اس لیے آئینی عدالت اس کیس کی سماعت کی مجاز ہے۔
یہ بھی پڑھیے ارشد شریف قتل کیس آخری مراحل میں، وفاقی آئینی عدالت کا کیس نمٹانے کا عندیہ
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یہ عدالت اس کیس کو سننے کا اختیار رکھتی ہے۔
دلائل سننے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے کیس کی مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کر دی۔














