حسینہ واجد عام انتخابات میں بھاری کامیابی کیسے حاصل کرتی رہیں؟

جمعرات 15 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں حکومت کے زیرِ انتظام ایک تحقیقات کمیشن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق چند گھنٹے قبل پولنگ شروع ہونے سے پہلے رات کے وقت بیلٹ اسٹامپ کیے گئے اور بیلٹ بکس میں ڈال دیے گئے۔

کمیشن کی 326 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق تقریباً 80 فیصد پولنگ مراکز میں بیلٹ رات کے 10 بجے سے صبح 3 بجے کے درمیان مارک کیے گئے تھے۔

 ‘Night Voting’ کی حکمت عملی

رپورٹ میں  بتایا گیا کہ اس رات کے وقت ووٹنگ کے عمل کی تجویز سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس جابد پٹواری نے دی تھی، جو بعد میں سعودی عرب کے لیے بنگلہ دیش کے سفیر مقرر ہوئے۔

زیادہ تر پولنگ اسٹیشنوں میں حکمران جماعت کے کشتی کے نشان والے بیلٹ اسٹیمپ کیے گئے اور بیلٹ بکس کو پولنگ کے دن سے پہلے بھر دیا گیا۔

 انٹیلیجنس اور ریاستی اداروں کا کردار

تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ نیشنل سیکیورٹی انٹیلیجنس (NSI) میں ایک خصوصی الیکشن سیل قائم کیا گیا تھا، جو تقریباً ہر مرحلے پر اثرانداز ہوا، جیسے کہ الیکشن کمیشن کے افسران کی بھرتی اور تبادلے، فیلڈ انتظامیہ کی تعیناتی، اپوزیشن کارکنان کی گرفتاریاں اور ہراسانی اور رات کے وقت بیلٹ اسٹیمپ کرنے کی منصوبہ بندی۔

یہ بھی پڑھیے حسینہ واجد کے انتقام کا نشانہ بننے والے افسران کو فراہمی انصاف کا فیصلہ

کمیشن کے مطابق، انتظامیہ، پولیس، انٹیلیجنس ادارے اور حکمران جماعت کے کارکن مل کر کام کرتے رہے، جس سے ریاستی اداروں اور جماعت کی مشینری میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔

 غیر معمولی ووٹر ٹرن آؤٹ

رپورٹ میں 2018 کے انتخابات میں غیر معمولی ووٹر ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار بھی دکھائے گئے۔

213 پولنگ مراکز پر 100 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ۔

122 مراکز پر 99 فیصد یا اس سے زیادہ۔

7,600 سے زائد مراکز پر 90–99 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ۔

مزید 587 پولنگ مراکز میں تمام ووٹ ایک امیدوار کو دیے گئے، جبکہ مخالفین کے لیے زیرو ووٹ درج ہوئے۔

 2014 اور 2024 کے انتخابات کی صورتحال

2014: کمیشن نے اسے یک طرفہ الیکشن قرار دیا، جس میں 153 نشستیں بلا مقابلہ ’جیتی‘ گئیں جبکہ باقی مقابلے پہلے سے طے شدہ تھے۔

یہ بھی پڑھیں ’سیدھی گولی ٹھوک دو‘ شیخ حسینہ واجد کی ٹیلی فون کال پر مبنی مصدقہ ثبوت سامنے آگئے

2024: اسے ’ڈمی الیکشن‘ قرار دیا گیا، جس میں حکمران جماعت کے حمایتی امیدوار بطور آزاد امیدوار چلے اور جعلی یا پارٹی سے منسلک مبصرین نے الیکشن کو جائز ثابت کرنے میں مدد کی۔

 رپورٹ کا نتیجہ

کمیشن نے اپنی رپورٹ چیف ایڈوائزر محمد یونس کو جمع کرائی اور کہا کہ 2008 کے انتخابات سے لے کر 2014، 2018 اور 2024 تک دھاندلی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات ریاستی سرپرستی میں حکمران جماعت کی فتح یقینی بنانے کی کوششوں کے تحت ہوئے، جس سے بنگلہ دیش کے جمہوری عمل کو شدید نقصان پہنچا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج پر بھی تقسیم، فیملی اور مختلف رہنماؤں کی الگ الگ ٹولیاں

مصنوعی ذہانت نے اختلافی مضمون لکھ کر شائع بھی کردیا، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان اور چین کا فوری جنگ بندی پر زور، امن کے لیے 5 نکات پیش کردیے

امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، طاہر اشرفی

پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم کی ہدایت

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا