حال ہی میں ایک خود مختار اے آئی ایجنٹ نے ایسا واقعہ رقم کیا کہ حیرت انگیز طور پر اس نے خود ایک مضمون تیار کر کے شائع کر دیا جس میں اس کی عملی صلاحیتیں اور ممکنہ خطرات نمایاں طور پر دکھائی دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیپ فیک ٹیکنالوجی: مصنوعی ذہانت نے نئی مشکل کھڑی کردی
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی اب صرف ایک مددگار ٹول نہیں رہی بلکہ ’ایجنٹک اے آئی‘ کی آمد نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا دور شروع کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ایجنٹ نہ صرف بات چیت کر سکتا ہے بلکہ خود فیصلے لینے، ڈیٹا پروسیس کرنے اور عملی اقدامات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اب اے آئی خود مختار ایجنٹس کی شکل اختیار کر چکی ہے جو کم سے کم انسانی نگرانی میں خود فیصلے اور عملی اقدامات انجام دے سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بڑے اداروں نے ان ایجنٹس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے تیزی سے اس ٹیکنالوجی کو اپنانا شروع کر دیا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال ’اوپن کلا‘ ہے جسے پیٹر اسٹینبرگر نے تیار کیا اور یہ حقیقی زندگی کے کام انجام دینے کی غیر معمولی صلاحیت کے باعث تیزی سے مقبول ہو گیا ہے۔
ایجنٹک اے آئی کا بڑھتا رجحان
اوپن کلا کے آغاز کے بعد سے اس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے یہاں تک کہ اسے اوپن اے آئی کی جانب سے اگلی نسل کے ذاتی ایجنٹس کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: اے آئی سے دوستی کا رجحان کہیں حقیقی زندگی سے دوری کی شروعات تو نہیں؟
چین میں بھی اے آئی ایجنٹس کا رجحان زور پکڑ چکا ہے جہاں کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے عوام کو مفت اے آئی ایجنٹس فراہم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ مختلف چینی کمپنیوں نے اس کے متبادل ورژنز بھی متعارف کرائے ہیں، جن میں منی میکس کا میکس کلا، مون شاٹ کا کیمی کلا، بائٹ ڈانس کا آرک کلا اور بائیڈو کا ڈو کلا شامل ہیں۔
یہ رجحان جاپان تک بھی پہنچ چکا ہے، جہاں ٹوکیو میں منعقدہ کلا کان ایونٹ میں ماہرین نے لوگوں کو اپنے اے آئی ایجنٹس انسٹال کرنے میں مدد فراہم کی۔ اسی دوران انوڈیا نے بھی نیمو کلا کے نام سے ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے جس میں سیکیورٹی پر خاص توجہ دی گئی ہے۔
اے آئی ایجنٹ یا میل ویئر؟
حالیہ ایک عجیب و غریب واقعے نے اس بات پر سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا اے آئی ایجنٹس میل ویئر کی طرح خطرناک بن سکتے ہیں۔ یہ واقعہ میٹ پلوٹ لِب لائبریری کے ڈیولپر اسکاٹ شیمباؤ سے متعلق ہے جن کے خلاف ایک بلاگ پوسٹ سامنے آئی جس میں ان پر اے آئی کے خلاف تعصب کا الزام لگایا گیا۔
مزید پڑھیں: اے آئی چیٹ کو محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے نئی حفاظتی تکنیک متعارف
حیران کن بات یہ تھی کہ یہ تحریر کسی انسان نے نہیں بلکہ ایک اے آئی ایجنٹ نے لکھی تھی جسے شیمباؤ نے پہلے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اس واقعے نے ظاہر کیا کہ خود مختار اے آئی ایجنٹس انسانوں کے خلاف پروپیگنڈا یا ہتک آمیز مواد بھی تیار کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ میل ویئر مکمل طور پر نقصان دہ ہوتا ہے لیکن اے آئی ایجنٹس میں مثبت صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔ تاہم اگر انہیں بغیر حفاظتی اقدامات کے استعمال کیا جائے تو یہ بھی میل ویئر کی طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
سیکیورٹی خدشات میں اضافہ
جیسے جیسے کمپنیاں اے آئی کو اپنانے میں تیزی دکھا رہی ہیں ویسے ویسے ایک مفید اسسٹنٹ اور سیکیورٹی خطرے کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین نے ’مہلک تثلیث‘ کے نام سے 3 بڑے خطرات کی نشاندہی کی ہے جن میں نجی ڈیٹا تک وسیع رسائی، بیرونی دنیا سے رابطے کی صلاحیت اور غیر معتبر مواد سے متاثر ہونے کا خطرہ شامل ہیں۔
چینی سائبر سیکیورٹی حکام نے بھی اے آئی ایجنٹس کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
تحقیقی رپورٹس کے مطابق کچھ اے آئی ایجنٹس خفیہ معلومات پڑھنے، نقصان دہ احکامات پر عمل کرنے اور بغیر انسانی نگرانی کے حساس ڈیٹا کو سوشل میڈیا پر شائع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعض کیسز میں اے آئی ٹولز کو ڈیٹا بیس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
اس کے باوجود ماہر ادارے گارٹنر کا اندازہ ہے کہ سنہ 2026 کے اختتام تک 40 فیصد کاروباری ایپلیکیشنز میں اے آئی ایجنٹس شامل ہوں گے۔
خطرات سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق اے آئی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔
قانونی اور سیکیورٹی نگرانی
اے آئی کی تیاری کے آغاز سے ہی قانونی اور سیکیورٹی ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ مناسب حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
تناسب کا اصول
اے آئی ایجنٹس کو صرف اسی صورت میں استعمال کیا جائے جب ان کے فوائد ممکنہ نقصانات سے زیادہ ہوں۔
کِل سوئچ کا نظام
اے آئی ایجنٹس کو قابو میں رکھنے کے لیے لازمی ’کِل سوئچ‘ متعارف کرایا جائے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں انہیں فوری طور پر بند کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: نیا عالمی مشن: کیا اب ہم انسانی اور اے آئی تخلیق میں فرق کر سکیں گے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو اے آئی ایجنٹس مستقبل میں ایک بڑے سیکیورٹی چیلنج میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔













