بھارت نے بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی شدت پسند سرگرمیوں اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر وہاں تعینات بھارتی حکام کے اہلِ خانہ اور زیرِ کفالت افراد کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اقدام بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخابات سے چند ہفتے قبل کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر ہائی کمیشن اور دیگر مقامات پر تعینات بھارتی حکام کے اہلِ خانہ کو بھارت واپس آنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا خطے میں ایک نیا ورلڈ آرڈر لکھا جا رہا ہے؟
تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں بھارتی مشن اور تمام سفارتی دفاتر بدستور کھلے اور فعال رہیں گے۔
Just in- India has redesignated its High Commission in Bangladesh as a non-family posting for Indian diplomats and officials, citing security concerns ahead of Bangladesh’s elections next month, as a precautionary step. #Bangladesh pic.twitter.com/EYHz3QuBxb
— Ashoke Raj (@Ashoke_Raj) January 20, 2026
’نان فیملی پوسٹنگ‘ کو سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات میں شمار کیا جاتا ہے، جو عموماً ایسے ممالک یا مقامات پر نافذ کی جاتی ہے جہاں صورتحال غیر مستحکم یا خطرناک سمجھی جائے۔
تاحال اس بات کی وضاحت نہیں ہو سکی کہ حکام کے اہلِ خانہ کب واپس بلائے جائیں گے اور آیا وہ مستقل طور پر بھارت منتقل ہوں گے یا نہیں۔
ڈھاکہ میں ہائی کمیشن کے علاوہ بھارت کے سفارتی دفاتر چٹاگانگ، کھلنا، راجشاہی اور سیلہٹ میں بھی قائم ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: مسلح افراد کا حملہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کا افسر شہید 4 اہلکار زخمی
بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات 2024 میں محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کے قیام اور شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے کشیدہ ہیں۔
حالیہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر دونوں ممالک نے اپنے سفارتی مشنز کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا ہے۔
12 دسمبر کو طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: طلبہ تنظیم کا الیکشن کمیشن کا دوسرے روز بھی گھیراؤ، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
بھارت نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات سے سختی سے نمٹے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ وہ اقلیتوں، ان کے گھروں اور کاروباروں پر شدت پسند عناصر کی جانب سے بار بار حملوں کا ایک پریشان کن سلسلہ دیکھ رہے ہیں۔
نئی دہلی نے بنگلہ دیش کے اس ’تشویشناک رجحان‘ کی بھی نشاندہی کی جس میں ایسے واقعات کو ذاتی دشمنیوں، سیاسی اختلافات یا دیگر وجوہات سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: غیرقانونی اسلحہ اور جعلی کرنسی کی ترسیل، بنگلہ دیش میں انتخابات پر منڈلاتے خطرات
جیسوال کے مطابق، اس طرح کی بے توجہی مجرموں کو مزید شہ دیتی ہے اور اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ کو بڑھاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اس مسئلے کو پہلے بھی متعدد بار اٹھا چکا ہے، تاہم اقلیتوں، ان کے گھروں اور کاروباروں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔














