ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے کے تناظر میں ٹیسلا اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے بارے میں ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران
ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کی ترقی اس رفتار اور پیمانے پر ہو رہی ہے جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اے آئی ایک سپر سونک سونامی ہے۔ اس پیغام کے ذریعے انہوں نے مصنوعی ذہانت کے انقلاب کی غیر معمولی رفتار اور وسعت کو اجاگر کیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ 54 سالہ ارب پتی نے اس تشبیہ کا استعمال کیا ہو۔ وہ اس سے قبل سنہ 2024 کے اوائل میں بوش کنیکٹڈ ورلڈ کانفرنس کے دوران بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔
’سپر سونک‘ انقلاب
ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تکنیکی انقلاب ثابت ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: کیا اے آئی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی کسی ٹیکنالوجی کو اتنی تیزی سے ترقی کرتے نہیں دیکھا جتنا اے آئی کمپیوٹ کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ صلاحیت ہر 6 ماہ میں تقریباً 10 گنا بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رفتار ہمیشہ برقرار نہیں رہ سکتی، لیکن میں نے اس جیسی مثال پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
ملازمتوں پر اثرات
مشہور پوڈکاسٹ جو روگن ایکسپیرینس میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ اے آئی کام کی نوعیت اور روزگار کے ڈھانچے کو غیر معمولی رفتار سے تبدیل کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل جدید تاریخ میں ہمیشہ سے جاری رہا ہے مگر فرق یہ ہے کہ اب اے آئی جس رفتار اور پیمانے پر لیبر مارکیٹ کو بدل رہی ہے وہ بے مثال ہے۔
مسک کے مطابق ہر وہ کام جو ڈیجیٹل نوعیت کا ہے جہاں کوئی شخص کمپیوٹر پر بیٹھ کر کچھ کر رہا ہے اے آئی ان ملازمتوں کو بجلی کی سی تیزی سے سنبھال لے گی۔
کام کرنا اختیاری ہو جائے گا؟
ٹیسلا کے سی ای او نے ایک ایسے مستقبل کا بھی تصور پیش کیا جہاں اے آئی اور روبوٹس کی بدولت کام کرنا لازمی نہیں رہے گا۔
مزید پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
انہوں نے کہا کہ اے آئی اور روبوٹس تمام نوکریوں کی جگہ لے لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کام کرنا اختیاری ہو جائے گا بالکل ایسے جیسے سبزیاں خود اگانا یا دکان سے خریدنے کے بجائے۔
’بایولوجیکل بوٹ لوڈر‘ کا نظریہ
ایلون مسک کے خیالات کے پیچھے ایک گہرا فلسفیانہ تصور بھی موجود ہے جس کے مطابق انسانیت محض ایک ’حیاتیاتی بوٹ لوڈر‘ ہے جو ایک ایسی ڈیجیٹل تہذیب کی بنیاد رکھے گی جو انسانی جسمانی حدود سے کہیں آگے ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت اور ملازمتوں کا مستقبل: خطرہ، تبدیلی یا موقع؟
انہوں نے علامتی انداز میں کہا کہ میں نے برسوں پہلے کہا تھا کہ انسان دراصل ڈیجیٹل سپر انٹیلیجنس کے لیے’بایولوجیکل بوٹ لوڈر‘ ہیں۔










