سویڈن میں معذور افراد کے حقوق کی سرگرم پاکستانی کارکن تنزیلہ خان کو بس میں سوار ہونے سے روک دیا گیا۔ ایک خاتون مسافر نے ان کی وہیل چیئر کی بیٹری کو خطرناک قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ دھماکے کا باعث بن سکتی ہے۔
تنزیلہ خان نے اس ناخوشگوار واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون انہیں بس میں سوار ہونے سے منع کر رہی ہے۔ خاتون بار بار یہ دعویٰ کرتی رہی کہ وہیل چیئر کی بیٹری سے آگ لگنے یا دھماکے کا خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہیل چیئر پر بیٹھی معذور خاتون کی خلا میں کامیاب پرواز
ویڈیو میں تنزیلہ خان کو اس صورتحال سے نمٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ قانون یا ٹرانسپورٹ پالیسی دکھانے کا مطالبہ کیا اور واضح کیا کہ بغیر ثبوت کے اس طرح کا رویہ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
View this post on Instagram
تنزیلہ خان نے گفتگو کے دوران سوال اٹھایا کہ آیا کسی حالیہ واقعے میں واقعی وہیل چیئر کی بیٹری کے دھماکے کا کوئی ثبوت موجود ہے، اور کہا کہ ذاتی خدشات کو سرکاری قواعد و ضوابط کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔
بالآخر ایک دوسرے مسافر کی مدد سے تنزیلہ خان بس میں سوار ہو گئیں، جہاں کسی قسم کی تکنیکی یا حفاظتی رکاوٹ پیش نہ آئی۔ بعد ازاں، وہ خاتون جس نے ابتدا میں انہیں روکا تھا، خود آگے آ کر معذرت بھی کر گئی۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کے دن دلہن وہیل چیئر سے اٹھ کر چلنے لگی
تنزیلہ خان نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کو روزمرہ زندگی میں اس قسم کے حالات کا سامنا رہتا ہے۔ ان کے مطابق، ایسے مواقع پر تحریری ثبوت اور ادارہ جاتی پالیسی کا مطالبہ کرنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ اکثر معاملات ذاتی تعصب پر مبنی ہوتے ہیں نہ کہ سیکیورٹی خدشات پر۔
واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے تنزیلہ خان کے حوصلے اور وقار کو سراہا۔ ایک صارف نے کہا کہ اس غیر ضروری امتیاز کے خلاف آواز اٹھانے پر آپ کو سلام۔ میں تو ضرور رو پڑتی۔
یہ بھی پڑھیں: ’وہیل چیئر ہمارے پاؤں ہیں جو ہمیں ایک سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ایسے لمحات بہت مشکل ہوتے ہیں اور مجھے یقین ہے آپ کو کئی بار ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے اور دوسروں کو تعلیم دینے پر شاباش۔
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی آپ کو کسی نئی من گھڑت پابندی کے ذریعے روکنے کی کوشش کرے تو پہلا سوال ہونا چاہیے آپ کا پورا نام کیا ہے؟ اس لمحے انہیں احساس ہو جاتا ہے کہ اب آپ بھی انہیں اسی طرح جوابدہ ٹھہرا رہے ہیں جیسے وہ آپ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسجدِ نبویؐ میں بزرگوں اور معذور افراد کے لیے سہولتوں میں مزید اضافہ
ادھر اسٹاک ہوم کاؤنٹی کی پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی اسٹوراسٹاک ہولمز لوکالٹرافک (SL) کے مطابق، تمام بسیں وہیل چیئر اور واکر استعمال کرنے والے مسافروں کے لیے ریمپس سے لیس ہیں تاکہ وہ آسانی سے بس میں سوار اور اتر سکیں۔ تاہم ادارے کی جانب سے وہیل چیئر کی مخصوص اقسام کے حوالے سے کسی پابندی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
تنزیلہ خان نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کو روزمرہ زندگی میں اس قسم کے حالات کا سامنا رہتا ہے۔ ان کے مطابق، ایسے مواقع پر تحریری ثبوت اور ادارہ جاتی پالیسی کا مطالبہ کرنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ اکثر معاملات ذاتی تعصب پر مبنی ہوتے ہیں نہ کہ سیکیورٹی خدشات پر۔













