ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن نے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹمز ویلیو کے تعین پر نظرثانی کرتے ہوئے نئی ویلیوایشن رولنگ جاری کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: یکم جنوری 2025 سے کون سے موبائل فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا؟
یہ رولنگ خاص طور پر ان موبائل فونز پر لاگو ہو گی جو کمرشل مقدار میں بغیر پیکنگ اور لوازمات کے درآمد کیے جاتے ہیں۔
ویلیوایشن رولنگ نمبر 2035/2026 کے مطابق بغیر پیکنگ اور لوازمات کے درآمد کیے جانے والے 62 ماڈلز کے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹمز ویلیو مقرر کی گئی ہے۔
ان میں ایپل، سام سنگ، گوگل پکسل اور ون پلس سمیت مختلف معروف برانڈز کے موبائل فون شامل ہیں۔ ان نئی مقررہ ویلیوز کی بنیاد پر کمرشل مقدار میں درآمد ہونے والے موبائل فونز پر ڈیوٹی اور ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
رولنگ کے مطابق یہ کسٹمز ویلیو موبائل فون کے کسی بھی مخصوص گریڈ سے قطع نظر لاگو ہو گی۔ اس کے ساتھ یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پاکستان برآمد ہونے سے کم از کم چھ ماہ قبل ایکٹیویٹ کیے گئے ہوں۔ درآمد کنندگان کو ایکٹیویشن کی مدت ظاہر کرنا لازم ہو گا جس کی تصدیق متعلقہ اسیسنگ افسران کریں گے۔
یہ ویلیوایشن رولنگ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ اے 25 کے تحت جاری کی گئی ہے اور 27 جون 2024 کو جاری ہونے والی ویلیوایشن رولنگ نمبر 1893/2024 کی جگہ لے گی۔ نئی رولنگ اس وقت تک نافذ العمل رہے گی جب تک اسے اسی قانون کی دفعہ 25A(4) کے تحت منسوخ یا نظرثانی نہ کیا جائے۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ کی انوکھی پورٹیبل موبائل مارکیٹ میں کون کون سے فون دستیاب ہیں؟
رولنگ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ویلیوایشن ایک سال سے زائد پرانی ہو چکی تھی اور عالمی منڈی کی موجودہ صورتحال کی عکاسی نہیں کر رہی تھی۔
نئی کسٹمز ویلیوز کے تعین کے لیے کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 25 میں فراہم کردہ طریقہ کار کو مرحلہ وار استعمال کیا گیا۔ دفعہ 25(1) کے تحت ٹرانزیکشن ویلیو کے طریقے کو ناقابل عمل قرار دیا گیا کیونکہ ظاہر کردہ قیمتیں عالمی مارکیٹ ریٹس سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ اسی طرح دفعہ 25(5) اور 25(6) کے تحت یکساں اور مشابہ اشیا کے طریقۂ کار کو بھی نامکمل معلومات اور قیمتوں میں مسلسل فرق کے باعث قابل اعتماد نہیں سمجھا گیا۔
اس کے بعد ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ 12 اگست، 26 ستمبر اور 15 دسمبر کو اجلاس منعقد کیے۔
اس دوران گزشتہ 90 دنوں کے درآمدی ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25(7) کے تحت آفس آرڈر نمبر 17/2014 کے مطابق مارکیٹ انکوائریاں کی گئیں جس کے بعد مصنوعات کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کر کے C&F ویلیوز مقرر کی گئیں۔
امزید پڑھیں: گاڑیوں کے بعد پاکستان میں موبائل فونز بھی سستے، قیمتوں میں کتنی کمی ہوئی؟
رولنگ میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ موبائل فون برانڈز یا ماڈلز جو کمرشل مقدار میں درآمد ہوں لیکن اس فہرست میں شامل نہ ہوں، اُن کی ویلیوایشن کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 25(5) اور 25(6) کے تحت کی جائے گی۔
علاوہ ازیں اگر درآمد کنندہ کی جانب سے ظاہر کردہ یا انوائس میں درج قیمت کسٹمز ویلیو سے زیادہ ہو تو اس صورت میں دفعہ 25(1) کے تحت زیادہ قیمت پر ہی کسٹمز ویلیو مقرر کی جائے گی۔ فضائی راستے سے درآمد کی صورت میں فضائی اور بحری فریٹ کے فرق کو بھی ویلیو میں شامل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: اگر آپ کا موبائل فون گم ہو جائے تو 8 کام فوراً کریں
کسٹمز حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ویلیوایشن رولنگ پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں اور کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں ڈائریکٹوریٹ جنرل کو فوری طور پر آگاہ کریں۔














