پاکستان کے شمالی علاقوں میں پائی جانے والی قیمتی اور لذیذ ٹراؤٹ مچھلی نہ صرف مقامی معیشت کا اہم ذریعہ ہے بلکہ علاقے کے ماحولیاتی توازن میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: دریائے نیلم کی ٹراؤٹ مچھلی میں جینیاتی تبدیلی کا انکشاف
اسکردو سمیت گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں ٹراؤٹ فارمنگ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کا بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے، تاہم رواں سال موسمیاتی تبدیلی اور غیر یقینی موسمی حالات نے اس شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کم برف باری اور درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی کے باعث پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹراؤٹ مچھلی کی بریڈنگ اور افزائش پر پڑ رہا ہے۔
پانی کی قلت کے باعث مچھلیوں میں بیماریاں بڑھ رہی ہیں، جبکہ بعض فارموں میں پیداواری صلاحیت بھی کم ہو گئی ہے۔
ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کے لیے زیادہ تر مصنوعی بریڈنگ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، جو مخصوص درجہ حرارت اور صاف پانی کا متقاضی ہوتا ہے۔ مگر بدلتے موسمی حالات نے اس قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے، جس سے مقامی فارمرز کو معاشی نقصان کا سامنا ہے۔
دوسری جانب محکمہ فشریز کی جانب سے ٹراؤٹ فارمنگ کو بچانے اور فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: لاطینی امریکا کی مچھلی سکھر میں پکڑی گئی، ماہرین کو تشویش لاحق
اسکردو میں محکمہ فشریز نے جدید تکنیک کے ذریعے بیرون ملک سے اعلیٰ معیار کی ٹراؤٹ مچھلیاں منگوا کر بریڈنگ کا عمل شروع کر دیا ہے، تاکہ مچھلی کی پیداوار میں اضافہ اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔













