اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ناکام کیوں ہو جاتی ہیں؟ سائنس نے وجہ بتا دی

اتوار 25 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

ڈپریشن دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی ذہنی بیماریوں میں شامل ہے، جس کا علاج عموماً اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے کیا جاتا ہے، تاہم بڑی تعداد میں مریض ایسے ہیں جن پر یہ ادویات خاطر خواہ اثر نہیں کرتیں۔ اب آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی کے برین اینڈ مائنڈ سینٹر کی ایک بڑی تحقیق نے اس سوال کا سائنسی جواب پیش کر دیا ہے، جو مستقبل میں ڈپریشن کے علاج کا طریقہ بدل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیریئر کے عروج میں ذاتی مسائل نے مجھے ڈپریشن میں مبتلا کردیا تھا، ثانیہ مرزا

تحقیق کے مطابق ڈپریشن کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ مختلف اقسام پر مشتمل کیفیت ہے، جن کے علاج کے لیے یکساں طریقہ مؤثر نہیں ہوتا۔ اس مطالعے میں تقریباً 15 ہزار آسٹریلوی افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جو اب تک کی سب سے بڑی تحقیقات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا ’Australian Genetics of Depression Study‘ کے تحت جمع کیا گیا، جس میں مریضوں کی علامات، طبی تاریخ اور جینیاتی معلومات شامل تھیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ تقریباً 21 فیصد افراد ایک مخصوص قسم کے ڈپریشن کا شکار تھے، جسے ’ای ٹائپیکل ڈپریشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس گروپ کے مریضوں میں عام ڈپریشن کے برعکس وزن میں کمی اور نیند کی کمی کے بجائے وزن میں اضافہ اور غیر معمولی حد تک زیادہ نیند کی شکایت پائی گئی۔ ایسے افراد شدید تھکن، جسمانی و ذہنی سستی اور روزمرہ زندگی میں مشکلات کا شکار رہے۔

سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ ای ٹائپیکل ڈپریشن کے مریض عام اینٹی ڈپریسنٹ ادویات، جیسے ایس ایس آر آئیز اور ایس این آر آئیز، پر بہتر ردعمل نہیں دیتے۔ الٹا ان ادویات سے وزن بڑھنے جیسے سائیڈ ایفیکٹس پیدا ہوتے ہیں، جس سے مریضوں کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے اور وہ علاج چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈپریشن سے متعلق بیان، عینا آصف نے وضاحت پیش کر دی

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر میرم شن کے مطابق اس مخصوص گروپ میں میٹابولزم، مدافعتی نظام، سوزش اور نیند کے نظام سے جڑے جینیاتی عوامل زیادہ پائے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کا ڈپریشن ایک مختلف حیاتیاتی راستے سے جڑا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی ادویات ان پر مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ذاتی نوعیت کے علاج (Personalised Treatment) کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جس میں ہر مریض کی علامات، جینیاتی ساخت اور مجموعی صحت کو مدنظر رکھ کر علاج کا انتخاب کیا جائے۔ اس طریقے سے نہ صرف آزمائش اور غلطی کا طویل عمل کم ہو سکتا ہے بلکہ سائیڈ ایفیکٹس کا خطرہ بھی گھٹایا جا سکتا ہے۔

اگرچہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ مطالعہ ڈپریشن کی بہتر تشخیص اور مؤثر علاج کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے، جو مستقبل میں لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم