وفاقی آئینی عدالت نے سوات سے رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کے خلاف نااہلی کے معاملے میں الیکشن کمیشن کو تاحکم ثانی کارروائی سے روک دیا ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے اوورسیز پاکستانیوں کو ای ووٹنگ کی مجوزہ اوپن سہولت کو غیرمحفوظ قراردیدیا
جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں سہیل سلطان کی نمائندگی بیرسٹر گوہر نے کی۔
بیرسٹر گوہر نے عدالت کو بتایا کہ جب انتخابات مکمل ہو جائیں تو آرٹیکل 199 کے تحت رٹ دائر کی جا سکتی ہے اور اسپیکر کو ریفرنس بھیجنے کا اختیار ہی نہیں تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے الیکشن کمیشن کوپی ٹی آئی ایم این اے کے خلاف ریفرنس پر کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکنے کے لیے اسٹے آرڈر جاری کر دیا۔
سہیل سلطان ایڈووکیٹ(MNA) کی جانب سے بیرسٹر گوہر عدالت میں پیش ہوئے pic.twitter.com/11eYscSzzu— Adv Abdul Majeed Mahar (@MajeedMahar4) January 26, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے کیس میں بھی سپریم کورٹ نے یہی اصول طے کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے 39 اراکین اسمبلی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
سہیل سلطان پر الزام تھا کہ انہوں نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ بننے کے بعد 2 سال کی پابندی پوری نہیں کی، جس کے تحت ان کی نااہلی کا معاملہ زیر بحث ہے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کر کے سماعت مؤخر کر دی۔













