بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل1 نے پیر کے روز ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس (ڈی ایم پی) کے سابق کمشنر حبیب الرحمان اور دو دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو جولائی کی عوامی بغاوت کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب پائے جانے پر سزائے موت سنا دی۔
یہ فیصلہ جسٹس محمد غلام مرتضیٰ موزمّدَر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جسٹس محمد شفیع الاسلام محمود اور جسٹس محمد محیالدین حق انعام چوہدری بھی شامل تھے۔ فیصلے کو براہِ راست نشر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا: چینی سفیر کی جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ملاقات
ٹربیونل نے سابق جوائنٹ کمشنر سوُدیپ کمار چکرورتی اور رامنا زون کے سابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہ عالم محمد اخترالاسلام کو بھی سزائے موت سنائی۔ عدالت نے تینوں مجرموں کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔
رامنا زون کے سابق اسسٹنٹ کمشنر محمد عمران کو چھ سال قید، جبکہ شاہ باغ تھانے کے سابق انسپکٹر محمد ارشد حسین کو چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح تین سابق کانسٹیبلز محمد سجان حسین، ایماز حسین اور محمد ناصرالاسلام کو تین، تین سال قید کی سزا دی گئی۔
ٹربیونل حکام کے مطابق سزائے موت پانے والے 4 افراد حبیب الرحمان، سوُدیپ چکرورتی، اخترالاسلام اور محمد عمران تاحال مفرور ہیں، جبکہ باقی سزا یافتہ افراد عدالتی تحویل میں ہیں۔
یہ جولائی کی عوامی بغاوت کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق دوسرا فیصلہ ہے۔ اس سے قبل 17 نومبر کو سنائے گئے فیصلے میں معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کو سزائے موت دی گئی تھی، جبکہ سابق آئی جی پولیس چوہدری عبداللہ المامون نے ریاستی گواہ بننے پر پانچ سال قید کی سزا پائی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی فوج کے ہاتھوں فیلانی خاتون کا قتل، ڈھاکا میں احتجاجی مارچ کا اعلان
چنکھارپُل کیس کی تحقیقاتی رپورٹ 21 اپریل 2025 کو پیش کی گئی، جو ازسرِنو تشکیل دیے گئے ٹربیونل کے سامنے دائر ہونے والی پہلی تحقیق تھی۔ آٹھ ملزمان پر 14 جولائی 2025 کو فردِ جرم عائد کی گئی، جبکہ 11 اگست کو باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوا، جس میں متاثرہ خاندانوں اور سابق سرکاری اہلکاروں نے گواہی دی۔ استغاثہ کی جانب سے 26 گواہ پیش کیے گئے۔
سماعتیں 10 دسمبر کو مکمل ہوئیں، جبکہ حتمی دلائل 24 دسمبر کو دیے گئے۔ فیصلہ 20 جنوری کو سنایا جانا تھا، تاہم اسے مؤخر کرتے ہوئے پیر کے روز جاری کیا گیا۔













