بھارتی فوج کے ہاتھوں فیلانی خاتون کا قتل، ڈھاکا میں احتجاجی مارچ کا اعلان

بدھ 7 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) کے ڈھاکا نارتھ یونٹ نے بنگلہ دیشی نوعمر لڑکی فیلانی خاتون کے قتل کو 15 سال مکمل ہونے پر ایک پُرامن احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ یہ واقعہ بھارت بنگلہ دیش سرحد پر بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ہاتھوں پیش آیا تھا۔

پارٹی کے مطابق یہ احتجاجی مظاہرہ ’اینٹی ہیجمنی مارچ‘ کے عنوان سے بدھ کے روز سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر منعقد ہوگا۔ مظاہرین شاہجادپور سے مارچ کا آغاز کریں گے اور ڈھاکا میں بھارتی ہائی کمیشن کی جانب پیش قدمی کریں گے۔ یہ احتجاجی مارچ نیشنل سٹیزنز پارٹی، ڈھاکا نارتھ یونٹ کی جانب سے منظم کیا جا رہا ہے۔

کارکنوں کو پُرامن شرکت کی ہدایت

این سی پی کی قیادت نے اپنے تمام کارکنان اور حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ وقت پر احتجاج میں شریک ہوں اور پُرامن طرزِ عمل کو یقینی بنائیں تاکہ احتجاج کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔

سرحدی ہلاکتوں اور انصاف کی عدم فراہمی پر احتجاج

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کا مقصد سرحدوں پر ہونے والی ہلاکتوں، خاص طور پر فیلانی جیسے واقعات میں انصاف نہ ملنے کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے ان واقعات کو ’بلا جواز سرحدی قتل‘ اور ’بالادستی پر مبنی جارحانہ رویہ‘ قرار دیا۔

واضح رہے کہ فیلانی خاتون کا قتل ایک ایسا واقعہ تھا جس نے اس وقت انسانی حقوق کی تنظیموں میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ یہ واقعہ آج بھی بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی سلامتی اور احتساب سے متعلق مباحث میں ایک حساس موضوع سمجھا جاتا ہے۔

فیلانی خاتون کا قتل کیسے ہوا؟

7 جنوری 2011 کو بنگلہ دیش کی 15 سالہ لڑکی فیلانی خاتون کو بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ یہ واقعہ کوریگرام ضلع کے پھولباڑی اپازلہ کے قریب بھارت بنگلہ دیش سرحد پر پیش آیا۔

فیلانی اپنے والد نور اسلام کے ساتھ بھارت کی ریاست آسام سے بنگلہ دیش واپس آ رہی تھیں، جہاں وہ کئی سال سے بغیر قانونی سفری دستاویزات کے مقیم تھے۔ دونوں باپ بیٹی نے سرحد غیر قانونی طور پر عبور کرنے کی کوشش کی۔

واقعے کے روز علی الصبح فیلانی اور ان کے والد نے ایک سیڑھی کے ذریعے خار دار تاروں والی سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران فیلانی کے کپڑے تاروں میں الجھ گئے اور وہ باڑ کے اوپر ہی پھنس کر رہ گئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق اسی دوران بی ایس ایف اہلکار امیہ گھوش نے فیلانی پر گولی چلائی۔ بتایا جاتا ہے کہ گولی لگنے کے بعد فیلانی کچھ دیر تک زندہ تھیں، مگر شدید زخمی حالت میں باڑ پر ہی دم توڑ گئیں۔

فیلانی کی لاش کئی گھنٹوں تک سرحدی باڑ پر لٹکتی رہی، جس کا منظر بعد میں ایک تصویر کی صورت میں دنیا بھر میں پھیل گیا۔ یہ تصویر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سرحدی تشدد کی علامت بن گئی۔

تصویر نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا

سرحدی باڑ پر لٹکتی فیلانی کی تصویر نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس واقعے کو غیر انسانی اور ظالمانہ قرار دیا۔

فیلانی کا خاندان بہتر معاشی مستقبل کی تلاش میں بھارت منتقل ہوا تھا۔ آسام میں فیلانی ایک گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھیں۔ 2011 کے آغاز میں خاندان نے فیلانی کی شادی کی تیاری کے لیے بنگلہ دیش واپس جانے کا فیصلہ کیا، جو ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔

فیلانی خاتون کا قتل آج بھی بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی سلامتی، انسانی حقوق اور انصاف سے متعلق بحثوں میں ایک دردناک حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp