وفاقی وزیر تجارت جام کمال کا کہنا ہے کہ پاکستان سنگین معاشی بحران سے نکل کر استحکام کے بعد اب ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے اور آنے والے برسوں میں عوام کو معاشی بہتری کے ثمرات ملنے شروع ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک نے پاکستان کی ترقی میں بطور ایک اہم شراکت دار کلیدی کردار ادا کیا، وزیراعظم
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جام کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ 3 سے 4 سال کے دوران جن معاشی مشکلات سے گزرا دنیا میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق چند سال قبل صورتحال یہ تھی کہ ملک کے فارن ریزروز خطرناک حد تک کم ہو چکے تھے، درآمدی ایل سیز کھولنی مشکل تھیں، فارن ایکسچینج کا حصول مسئلہ بن چکا تھا اور ہر طرف ڈیفالٹ کے خدشات زیر بحث تھے۔
جام کمال نے کہا کہ آج اگر اس دور کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو مہنگائی میں کمی، پالیسی ریٹ میں بہتری، بجلی کے نرخوں میں کمی، فارن ریزروز میں اضافہ اور عالمی مالیاتی اشاریوں میں بہتری واضح طور پر نظر آتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کو عالمی اداروں کی حمایت حاصل ہوئی اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی بہتری آئی جو عالمی سطح پر اعتماد کی علامت ہے۔
مزید پڑھیے: سب کو مل جل کر پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، عطا تارڑ
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یورپ، گلف، فار ایسٹ اور امریکا جیسے ممالک کی جانب سے پاکستان کو ریکگنیشن اور رسپیکٹ ملنا ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹس کے حوالے سے خدشات موجود تھے لیکن حکومت نے نہ صرف انہیں مستحکم رکھا بلکہ ان میں پیشرفت بھی دکھائی ہے۔
جام کمال کے مطابق پاکستان ایک بحران سے نکل کر اسٹیبلیٹی کی طرف آیا ہے اور اب اسٹیبلیٹی سے گروتھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے اس پیشرفت کا کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار، وفاقی کابینہ اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کاوشوں کو دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ زراعت، مینوفیکچرنگ، ایکسپورٹس اور عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کی منڈی پاکستان کے لیے کھلی ہے، جی ایس پی پلس کی ایویلیوایشن مثبت رہی، جبکہ افریقی، سینٹرل ایشیائی، آسیان ممالک، بنگلہ دیش، برطانیہ اور جی سی سی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
جام کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ویتنام، جنوبی کوریا، جاپان، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت نئی منڈیوں میں بھی قدم رکھا ہے۔
مزید پڑھیں: معاشی استحکام بحال، فچ ایجنسی نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی
بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سیاسی اور معاشی استحکام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اندرونی سطح پر ٹیکس نظام، پیداواری لاگت اور توانائی کے نرخ بڑے چیلنجز ہیں جبکہ عام پاکستانی کے لیے کاروبار کو آسان بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی مقصد کے لیے ای آفس سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جس سے شفافیت، احتساب اور فائل ٹریکنگ ممکن ہوئی ہے۔
جام کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان سفارتی اور معاشی تنہائی سے نکل چکا ہے اور اگر 3 سال پہلے اور آج کی صورتحال کا موازنہ کیا جائے تو نمایاں فرق نظر آتا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ 100 فیصد اہداف ابھی حاصل نہیں ہوئے تاہم ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نظر میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں پر مزید مشاورت، خصوصاً صنعت اور زراعت جیسے شعبوں میں، وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی معاشی پوزیشن منفی سے مستحکم ہوگئی، عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کا اعلامیہ
جام کمال نے مزید کہا کہ ٹیکس اصلاحات ایک بڑا چیلنج ضرور ہیں لیکن وزیراعظم کی قیادت میں اس حوالے سے اصلاحاتی عمل جاری ہے تاہم اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔













