پی بی 21 الیکشن عذرداری: وفاقی آئینی عدالت نے صالح بھوتانی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 کی الیکشن عذرداری سے متعلق صالح بھوتانی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران علی حسن زہری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دوبارہ گنتی کا عمل مکمل طور پر درست تھا اور دوبارہ گنتی ایک انتظامی عمل ہوتا ہے، نہ کہ عدالتی۔

یہ بھی پڑھیں: پی بی 21 الیکشن کیس: آئینی عدالت نے دوبارہ گنتی کے قانونی طریقہ کار پر وضاحت طلب کرلی

ان کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق اختیارات استعمال کیے۔

فاروق ایچ نائیک نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 95(6) کے تحت یہ معاملہ دوبارہ الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا تاکہ قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد الیکشن ٹریبونل نے اپنا پہلا فیصلہ برقرار رکھا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کے حلقہ 21 سے متعلق انتخابی عذرداری پرالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ٹریبونل کی جانب سے اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا؟

دلائل مکمل ہونے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے صالح بھوتانی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس امین الدین خان نے الیکشن ایکٹ کے تحت دوبارہ گنتی کے قانونی طریقہ کار پر وضاحت طلب کی تھی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کے نو منتخب رکن اور وزیر علی حسن زہری تنازعات کا شکار کیوں؟

صالح بھوتانی کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر تاحال فارم 47 موجود ہے۔

جس کے مطابق صالح بھوتانی نے 30 ہزار 910 ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ علی حسن زہری کو 17 ہزار ووٹ ملے۔

خواجہ حارث کے مطابق دوبارہ گنتی کے بعد صالح بھوتانی کے 13 ہزار 507 ووٹ کینسل کر دیے گئے، حالانکہ دوبارہ گنتی کی درخواست میں صرف خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں سابق وزیراعلیٰ کے گھر چھاپہ، سندھ اور بلوچستان حکومتیں آمنے سامنے

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کے روز پولنگ کے بعد حالات خراب ہو گئے، لڑائی جھگڑے ہوئے اور سڑکیں بند کی گئیں۔ واقعے کی ایف آئی آر بھی درج ہے تاہم تاحال چالان پیش نہیں کیا گیا۔

وکیل نے مزید بتایا کہ ریٹرننگ افسر نے اس صورتحال سے متعلق الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا تھا۔

اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے دریافت کیا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو الیکشن ایکٹ کے تحت دوبارہ گنتی کا کیا قانونی طریقہ کار ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: جسٹس امین الدین کی سربراہی میں بینچ مختلف الیکشن کیسز پر کل سماعت کرے گا

جواب میں خواجہ حارث نے بتایا کہ دوبارہ گنتی ممکن ہوتی ہے اور اسی عمل کے دوران 10 ہزار 577 ووٹوں کا اضافہ سامنے آیا۔

ان کے مطابق پہلی گنتی میں 76 ہزار ووٹ نکلے تھے جبکہ دوبارہ گنتی میں 87 ہزار ووٹ سامنے آئے۔

علی حسن زہری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ 39 پولنگ اسٹیشنز سے متعلق ہے۔

ان کے مطابق دوبارہ گنتی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا، جسے دونوں فریقین نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، فریقین کی استدعا پر سپریم کورٹ نے بعد ازاں دوبارہ گنتی کا حکم دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 27 مارچ کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کردیا

ڈیپ فیک کی دنیا: لوگ تشکیک کا شکار،شناخت کی تصدیق کا مؤثر طریقہ کیا؟

ریاست مخالف بیانیہ، این سی سی آئی اے نے شوکت نواز میر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

مشرق وسطیٰ کشیدگی: وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر کی ٹیلیفونک گفتگو، رابطے میں رہنے پر اتفاق

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سندھ کابینہ کے اراکین 3 ماہ کی تنخواہوں سے دستبردار، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں معطل

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ