ایران اور امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا مذاکرات اور سفارت کاری پر زور

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

جمعرات کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی ٹاپ سیکیورٹی آفیشل علی لاریجانی کا دورہ، پاک ایران تعاون مزید مضبوط

وزیراعظم آفس کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کی بنیاد پر قریبی تعلقات قائم ہیں، اور دونوں ممالک نے دوطرفہ ادارہ جاتی نظام کے تحت اعلیٰ سطح روابط اور مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے، جبکہ دونوں ممالک قریبی رابطے میں رہنے پر متفق ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی امریکا ایران کشیدگی کم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش

دفتر خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران سے متعلق قرارداد پر پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایران سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ مشن کی مدت میں 2 سال کی توسیع کی قرارداد منظور کی تھی، جس کی پاکستان نے مخالفت کی۔

ادھر ایران اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ میں بھی شدت آ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرے، بصورت دیگر مزید سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی حکام کے مطابق امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرتے ہوئے یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں تعینات کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’امریکا ایران کی طاقت کو سمجھنے میں ناکام‘

ایران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ اور طاقت کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا، تاہم ایران منصفانہ اور غیر جابرانہ جوہری معاہدے کے لیے آمادہ ہے۔

علاقائی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان نے امریکا سے ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی جنگ سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کی رقوم گروی رکھ دیں؟

اسحاق ڈار کا آذربائیجانی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

کینیا کے شہریوں کی یوکرین میں فوجی بھرتی بند کرنے پر روس کا اتفاق

اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد استحکام، انڈیکس میں 837 پوائنٹس کا اضافہ

پاکستان کے فضائی حملوں میں کابل کے اسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے دعوؤں کی پاکستان کی جانب سے تردید

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا