حالیہ دنوں میں یہ خبر زیرِ بحث ہے کہ پاکستان نے سعودیہ ارب سے تقریباً 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ یا مالی سہولت کے لیے درخواست کی ہے اور اس سلسلے میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کی remittances کو بطور گارنٹی دکھایا گیا ہے۔
اس خبر کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ شاید سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی تنخواہوں سے پیسے کاٹے جائیں گے یا ان کی بھیجی ہوئی رقوم میں کمی ہو جائے گی۔
اس خبر کی اصل حقیقت کچھ اور ہے جسے سمجھنا کسی مالیاتی ماہر کی طرح نہیں، بلکہ عام انسان کی نظر سے بھی ممکن ہے۔
پاکستان نے جو تجویز دی ہے اس عمل کو فنانس کی زبان میں عام طور پر Remittance Securitization یا Diaspora-backed Financing کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی جو زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں ان مستقبل کی remittances کو ضمانت بنا کر قرض لیا جاتا ہے۔
جب زرمبادلہ ضمانت بنتی ہیں تو قرض دینے والے کو خطرہ کم لگتا ہے، کیونکہ مستقل طور پر ملک میں آنے والی رقم بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور قرض دینے والے ملکوں کے نزدیک قابلِ اعتبار سمجھی جاتی ہے، اس لیے interest rate کم رکھا جاتا ہے۔ یوں قرض لینے والے ملک کو سستا قرض میسر آتا ہے۔
خبر کے مطابق پاکستان نے بھی سعودیہ سے درخواست کی ہے کہ overseas پاکستانیوں کی remittances کو securitize کر کے مالی سہولت حاصل کی جائے، تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ سکیں اور مہنگے قرض کم لیے جائیں۔
ریمیٹنس یعنی زر مبادلہ کو ضمانت کیسے بنایا جاتا ہے؟
جب حکومت زرمبادلہ کی مستقبل کی رقوم ضمانت کے طور پر پیش کرتی ہے، تو بینک ایک مخصوص اکاؤنٹ بناتے ہیں جسے escrow account کہا جاتا ہے۔ پیسے پہلے اس اکاؤنٹ میں آتے ہیں، قرض کی قسط اس رقم میں سے ادا کر دی جاتی ہے، اور باقی رقم پوری طرح پاکستانی بینکوں اور وصول کنندگان تک پہنچ جاتی ہے۔
اس عمل سے بیرون ملک پاکستانیوں کے بھیجے گئے پیسوں میں کسی بھی قسم کی کٹوتی نہیں ہوتی، بلکہ صرف بینک اور حکومت کے درمیان مالی ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے، جس کا عام شہری پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
یہ کوئی نیا نظام نہیں ہے، دنیا میں کئی ممالک نے یہی طریقہ استعمال کر کے اربوں ڈالر قرض حاصل کیا ہے۔ 2000-2015 تک ترکی نے یورپ میں مقیم ترک شہریوں کی remittances کے بہاؤ کو بطور ضمانت استعمال کیا، جس کے ذریعے ترک حکومت نے diapsora bonds اور تقریباً 5–6 ارب ڈالر کا بین الاقوامی قرض حاصل کیا۔
اسی طرح برازیل نے 1990 اور 2000 کی دہائی میں remittance-backed bonds جاری کیے۔ میکسیکو نے بھی امریکہ سے آنے والی رقوم کو ضمانت بنا کر قرض حاصل کیا، اس سے معیشت میں liquidity بڑھائی گئی اور IMF کے ساتھ مالیاتی استحکام قائم ہوا۔
یہ ممالک اس طریقے کو استعمال کر کے اپنی معیشت میں استحکام لائے اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا۔ Remittance Securitization کے ذریعے قرض لینے کے باوجود بیرون ملک سے بھیجا ہوا زرمبادلہ کا پیسہ بالکل محفوظ ہوتا ہے۔ یہ سارا نظام صرف یہ یقین دہانی کرانے کے لیے ہے کہ بینک اور قرض دینے والے کو یہ اعتماد رہے کہ مستقبل میں قرض کی ادائیگی ہوتی رہے گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














