وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت لاہور میں بسنت 2026 کے لیے ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں سخت حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کی نگرانی میں ہاؤسنگ سوسائٹیز، اندرون شہر، کمرشل عمارتوں اور چھتوں پر میلے کے دوران شہری حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج، پتنگ سازوں کے پاس آرڈرز کی بھر مار
ڈپٹی کمشنر لاہور نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ 30 افراد یا اس سے زائد گنجائش والی نجی اور کمرشل عمارتوں کی چھتوں پر بسنت کے دوران این او سی کے بغیر کوئی اجتماع منعقد نہ کیا جائے۔ اجازت نامے کے لیے شہری اپنے اصل شناختی کارڈ کی تصاویر، ملکیتی دستاویزات یا کرایہ نامہ، اور کرایہ دار ہونے کی صورت میں مالک مکان کی رضامندی کا خط جمع کرائیں۔

ضلعی انتظامیہ نے چھتوں کے استعمال اور بسنت کے 12 نکاتی کوڈ آف کنڈکٹ جاری کیے ہیں تاکہ شہریوں اور مہمانوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ این او سی کے حصول کے لیے چھت کی تازہ ترین واضح تصاویر بھی فراہم کرنا لازمی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرز منظور شدہ عمارتوں اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کریں گے اور دستاویزات کی تصدیق کے بعد فوری اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بسنت سے قبل لاہور کے فصیل بند شہر میں 346 غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی
ڈرون کیمروں اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے شہر بھر کی چھتوں کی فضائی نگرانی کی جائے گی تاکہ ہجوم منظم رہے اور کسی قسم کا حادثہ یا غیر قانونی اجتماع نہ ہو۔ شہریوں کے لیے آن لائن پورٹل کے ذریعے اجازت نامے کا آسان طریقہ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ این او سی کے حصول میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے کہا کہ این او سی کا مقصد شہریوں کی حفاظت اور ہجوم کو منظم رکھنا ہے، اور بسنت کے دوران ہر اقدام قانونی اور محفوظ طریقے سے کیا جائے گا۔














