لاہور ہائی کورٹ نے اسموگ تدراک کیس میں گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے اپنے تحریری حکم میں کئی اہم نکات شامل کیے ہیں۔
عدالت نے شیرانوالہ گیٹ اور ٹیکسالی گیٹ میں جاری انڈر گراؤنڈ پارکنگ کے کام کو آئندہ سماعت تک روکنے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر، رجسٹرار اور دیگر افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مارگلہ کے سائے میں اسموگ کا راج: کیا ہم نے اپنا ’گرین سٹی‘ کھو دیا؟
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں۔ سماعت کی اگلی تاریخ 2 فروری، دوپہر ساڑھے 12 بجے مقرر کی گئی ہے۔
تحریری حکم میں عدالت نے پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کے حوالے سے بھی سخت نوٹس لیا۔ عدالت نے کہا کہ ڈی جی پی ایچ اے کو چاہیے تھا کہ وہ درختوں کی کٹائی پر وائس چانسلر سے تحقیقات کرتے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر درخت کاٹے گئے اور انہیں سستے داموں فروخت کیا گیا، جو 2023 کے عدالت کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی و شجرکاری کی نگرانی کے لیے ماہر کمیٹیاں قائم کی جائیں، شیری رحمان
عدالت نے واضح کیا کہ پی ایچ اے لاہور میں درختوں کا محافظ ہے اور چھوٹے سے چھوٹے درخت کی کٹائی پر بھی پی ایچ اے کو کارروائی کرنا چاہیے۔ عدالت نے ایس پی تفتیش کو ہدایت دی ہے کہ وہ پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کی نگرانی کریں۔













