بنگلہ دیش نے ریپڈ ایکشن بٹالین کا نام اور وردی کیوں تبدیل کی جارہی ہے؟

منگل 3 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش نے انسانی حقوق سے متعلق سنگین الزامات کے تناظر میں اپنی ایلیٹ قانون نافذ کرنے والی فورس ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کا نام تبدیل کر کے اسپیشل انٹروینشن فورس (SIF) رکھ دیا ہے۔

یہ فیصلہ فورس کی ساکھ بحال کرنے اور اس کے عملی ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

یہ اعلان منگل کے روز وزارت داخلہ میں لا اینڈ آرڈر کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ بنگلہ دیش کے مشیر برائے امورِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) جہانگیر عالم چوہدری نے بتایا کہ فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہو گا اور اس حوالے سے باضابطہ سرکاری نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔

مشیر داخلہ کے مطابق، یہ تجویز ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے دی تھی جس کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالحفیظ کر رہے تھے، جو دفاع اور قومی یکجہتی سے متعلق چیف ایڈوائزر کے خصوصی معاون ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف ایڈوائزر نے سفارش کی منظوری دے دی ہے اور اب فورس نئے نام اور نئے عملی فریم ورک کے تحت کام کرے گی۔

وردی میں تبدیلی، امیج ری سیٹ کی کوشش

حکام کے مطابق فورس کی وردی پہلے ہی تبدیل کی جا چکی ہے اور اہلکار جلد نئی وردی میں عوام کے سامنے نظر آئیں گے۔

وزارت داخلہ کے سینئر سیکرٹری نسیم الحق غنی نے تسلیم کیا کہ ریپڈ ایکشن بٹالین کا سابقہ نام عوام میں منفی تاثر اختیار کر چکا تھا، جس کے باعث ری برانڈنگ ضروری سمجھی گئی۔

ریپڈ ایکشن بٹالین کا قیام 2004 میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے دورِ حکومت میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت فورس ملک بھر میں 15 بٹالینز کے ذریعے کام کر رہی تھی، تاہم برسوں کے دوران اس پر ماورائے عدالت ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے۔

امریکی پابندیاں اور اقوام متحدہ کی رپورٹ

دسمبر 2021 میں امریکا نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں ریپڈ ایکشن بٹالین اور اس کے کئی سینئر افسران پر پابندیاں عائد کیں، جن کا اعلان امریکی محکمہ خزانہ اور محکمہ خارجہ نے کیا تھا۔ پابندیوں کی زد میں ایک سابق ڈائریکٹر جنرل بھی شامل تھا۔

بعد ازاں، جولائی اور اگست 2024 کے واقعات پر اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں فورس کو مکمل طور پر تحلیل کرنے کی سفارش کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھی ایسے ہی مطالبات کیے۔

بنگلہ دیش پولیس ریفارم کمیشن نے ریپڈ ایکشن بٹالین کی ضرورت پر نظرثانی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فورس کے ماضی کے طرزِ عمل اور الزامات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جانا چاہیے، اور عوام دوست پولیسنگ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

دوسری جانب، اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) نے فورس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ادارے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

اصل تبدیلی یا محض علامتی قدم؟

اب یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا ریپڈ ایکشن بٹالین کا نام تبدیل کر کے اسپیشل انٹروینشن فورس رکھنا واقعی عملی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا باعث بنے گا، یا یہ محض ایک علامتی اقدام ثابت ہو گا۔

بنگلہ دیش کو اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر سخت نگرانی کا سامنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم