لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام قذافی فائرنگ سے قتل

بدھ 4 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو مبینہ طور پر فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ہے۔

لیبیائی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 53 سالہ سیف الاسلام کی موت کی تصدیق منگل کے روز ان کی سیاسی ٹیم کے سربراہ نے کی۔ سیف الاسلام کو ایک عرصے تک اپنے والد کا ممکنہ جانشین سمجھا جاتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ترکیہ میں طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف محمد الحداد ساتھیوں سمیت جاں بحق

ان کے وکیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 4 افراد پر مشتمل ایک کمانڈو یونٹ نے مغربی شہر زنتان میں ان کے گھر پر حملہ کر کے انہیں قتل کیا، تاہم حملے کے ذمہ داروں کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ دوسری جانب، ان کی بہن نے لیبیائی ٹی وی کو بتایا کہ سیف الاسلام کی موت ملک کی الجزائر سے ملحقہ سرحد کے قریب ہوئی۔

سیف الاسلام قذافی کون تھے؟

سیف الاسلام قذافی کو اپنے والد کے بعد لیبیا کی سب سے بااثر اور خوف کی علامت سمجھی جانے والی شخصیت تصور کیا جاتا تھا۔ وہ 1972 میں پیدا ہوئے اور 2000 کے بعد مغربی ممالک کے ساتھ لیبیا کے تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے، جو 2011 میں قذافی حکومت کے خاتمے تک جاری رہا۔

Who is Libya's Saif al-Islam Gaddafi? - BBC News
سیف الاسلام قذافی اپنے والد معمر قذافی کے ہمراہ

والد کی معزولی اور ہلاکت کے بعد سیف الاسلام پر حکومت مخالف مظاہروں کے سخت کریک ڈاؤن میں کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے، جس کے بعد انہیں زنتان میں ایک حریف ملیشیا نے تقریباً 6 سال تک قید رکھا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت بھی 2011 میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر انہیں مقدمے کا سامنا کرانا چاہتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم سے لیبیا کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون پر گفتگو

2015 میں طرابلس کی ایک عدالت نے انہیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی، تاہم 2 سال بعد مشرقی شہر طبرق میں موجود ملیشیا نے عام معافی کے قانون کے تحت انہیں رہا کر دیا۔

معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا مختلف ملیشیاؤں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں تقسیم ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں موجود ہیں۔

سیف الاسلام نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی کہ وہ اپنے والد سے اقتدار وراثت میں لینا چاہتے تھے، تاہم 2021 میں انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، جو بعد ازاں غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا