کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے ہاؤس بلڈنگ فائنانس کمپنی (ایچ بی ایف سی) کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے نجکاری کمیشن کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے.
دوسری جانب اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کو بھی نجکاری کمیشن کے ذریعے شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس، تمام لین دین قانون کے مطابق کرنے پر زور
یہ فیصلے منگل کے روز یہاں ہونے والے سی سی او پی کے اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی۔
اجلاس میں مختلف سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔
DPM/FM Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 chaired a meeting of the Cabinet Committee on Privatization (CCoP) today. The Committee reviewed the privatization process of various state-owned entities.
The committee endorsed the decision of the Privatisation Commission to go… pic.twitter.com/Xi02y1LnmD
— Office of the Deputy Prime Minister (@DPM_PK) February 3, 2026
سرکاری بیان کے مطابق کمیٹی نے ایچ بی ایف سی کی نجکاری کے لیے دوسرے مرحلے (سیکنڈ سائیکل) میں جانے کے نجکاری کمیشن کے فیصلے کی منظوری دی۔
اس کے علاوہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کو بھی نجکاری کمیشن کے دائرہ کار میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ نہ ہو سکی، ذمہ داری وزارت نجکاری کو سونپ دی گئی، خواجہ آصف
اس موقع پر اسحاق ڈار نے زور دیا کہ متعلقہ وزارتیں اور نجکاری کمیشن منصفانہ مارکیٹ ویلیو کا تعین یقینی بنائیں، جس میں اداروں کے اثاثوں کے ساتھ ساتھ مستقبل کے کاروباری امکانات بھی شامل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور ادارے مارکیٹ کی تبدیلیوں کے مطابق زیادہ تیزی سے خود کو ہم آہنگ کر سکیں گے۔
اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر اعظم کے خصوصی معاونین ہارون اختر اور طارق باجوہ، سیکریٹری کابینہ، سیکریٹری نجکاری، سیکریٹری لا ڈویژن، سیکریٹری صنعتیں اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی نجکاری کو اقتصادی اصلاحات میں سنگ میل قرار دے دیا
واضح رہے کہ جنوری میں حکومت نے ایچ بی ایف سی کی نجکاری کے پہلے مرحلے کو اس وقت روک دیا تھا جب پاکستان مارگیج ری فائنانس کمپنی کی جانب سے 4.2 ارب روپے کی واحد بولی موصول ہوئی، جو کہ 13.55 ارب روپے کی مقررہ قیمت سے کہیں کم تھی۔
اب اس عمل کے دوبارہ آغاز کی توقع ہے، جس میں زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے ساتھ اسٹریٹجک انضمام بھی زیر غور آ سکتا ہے۔














