حکومتِ پاکستان نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری مہاجرین کے لیے ایک بڑا اور اہم ریلیف پیکج دینے کا اعلان کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا عملی ثبوت پیش کیا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی ہدایت پر 1989-90 کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کرنے والے کشمیری مہاجرین کا ماہانہ فی کس گزارہ الاؤنس بڑھا کر 5 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مہاجرین کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی لانا اور ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مہاجرین جموں و کشمیر کی مکمل بحالی ایک قومی فریضہ ہے، اور ریاست ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کشمیری مہاجرین کی عزت، تحفظ اور بہتر مستقبل کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
حکومتِ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول تک پاکستان ان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ہر عالمی فورم پر ان کا مقدمہ بھرپور انداز میں اجاگر کرتا رہے گا۔
750 رہائشی گھروں کی تعمیر کا پائلٹ منصوبہ جاری
کشمیری مہاجرین کی آبادکاری کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے 3 ارب روپے کی لاگت سے 750 رہائشی گھروں پر مشتمل ایک پائلٹ پراجیکٹ پر کام جاری ہے۔ ان گھروں کی تعمیر کے لیے حکومت آزاد جموں و کشمیر نے زمین فراہم کی ہے، جبکہ منصوبے کا مقصد مہاجر خاندانوں کو باعزت اور محفوظ رہائش فراہم کرنا ہے۔
کشمیریوں کے ساتھ دائمی وابستگی کا اعلان
حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور انسانی سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔













