ریلوے کالونی کوئٹہ کے رہائشی جاوید کا 24 سالہ بیٹا محمد صدیق ہفتے کی صبح زرغون روڈ پر مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پولیس میں بھرتی ہوکر دہشتگردوں سے بابا کا بدلہ لوں گی‘، کوئٹہ کے شہید پولیس اہلکار کی ننھی بیٹی کا عزم
شہید نوجوان کے والد جاوید نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا ان کی آنکھوں کے سامنے سڑک پر تقریباً ڈھائی گھنٹے تک تڑپتا رہا۔ شدید فائرنگ کے باعث وہ فوری طور پر اپنے بیٹے کو اسپتال منتقل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل گاڑیاں روکنے کی کوشش کرتے رہے اور لوگوں سے مدد کی منتیں کرتے رہے مگر خوف کے مارے کوئی قریب آنے کو تیار نہ ہوا۔
جاوید کے مطابق دہشتگرد علاقے میں اس بے خوفی سے گھوم رہے تھے جیسے اپنے گھر میں ٹہل رہے ہوں۔ بعد ازاں اہلخانہ اور رشتہ دار بڑی مشکل سے صدیق کو اسپتال پہنچانے میں کامیاب ہوئے لیکن زندگی بیٹے کا اتنا انتظار نہ کرسکی۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ: دہشتگردی کے واقعات میں شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا، اعلیٰ حکام کی شرکت
والد نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹروں کے سامنے گڑگڑا کر اپنے بیٹے کی جان بچانے کی درخواست کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
غم زدہ والد نے کہا کہ وہ میرا فرمانبردار بیٹا تھا، میرا سہارا تھا لیکن دہشتگردوں نے میری کمر توڑ دی۔
محمد صدیق ایک بیکری میں ملازمت کرتا تھا اور روزانہ 12 سے 13 گھنٹے محنت کر کے جو معمولی تنخواہ کماتا اسی سے گھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ، ایک ماہ کے لیے سخت پابندیاں عائد
جاوید خود ریلوے کے ملازم ہیں اور ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں جبکہ صدیق کی والدہ شدید علیل ہیں۔ 4 بہن بھائیوں میں صدیق سب سے بڑا اور گھر کا واحد کفیل تھا۔













