لاہور میں بسنت کی رونقیں، خریداری میں خوشی اور جوش و خروش

جمعرات 5 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کے مشہور کشمیری بازار میں بسنت کے تیوہار کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ بازار میں خواتین اور بچے عید کی خریداری کی طرح رنگ برنگے کپڑے، جوتے اور دیگر سامان خریدتے نظر آ رہے ہیں، جس سے بازار کی رونق اور خوشبو دیدنی ہو گئی ہے۔

دکانداروں نے بتایا کہ بسنت کے موقع پر کاروبار عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ایک دکاندار نے کہا کہ بسنت ہمارے لیے خوشی کا تیوہار ہی نہیں بلکہ روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ ان دنوں ہماری فروخت دوگنی ہو جاتی ہے اور بازار میں گاہکوں کا رش برقرار رہتا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور میں بسنت: قیمتوں اور محفوظ انتظامات پر توجہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کا تیوہار نہ صرف ثقافتی طور پر اہم ہے بلکہ چھوٹے تاجروں کے لیے معاشی لحاظ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ رنگ برنگی پتنگیں، کھلونے اور متعلقہ اشیا کی خریداری بازار کی رونق میں اضافہ کرتی ہیں۔

بازار میں موجود شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت کی خوشیاں صرف خریداری تک محدود نہیں، بلکہ ہر طرف رنگوں، ہنسی خوشی اور جوش و خروش سے ماحول سرشار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘