بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت مقرر کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ کیس دوبارہ اعلیٰ ترین عدالت میں سماعت کے لیے فکس کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ فوجداری درخواستوں پر سماعت کرے گا، جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کیا ہے، کب کیا ہوا اور جج کیوں بدلا گیا؟
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو الیکشن ایکٹ کی دفعات 167 اور 173 کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا کو معطل کرتے ہوئے انہیں ریلیف فراہم کیا تھا۔
اب سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں فوجداری درخواستوں پر قانونی نکات، سزا کی حیثیت اور مقدمے کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات پر غور کیا جائے گا۔ کیس کی سماعت کو ملکی سیاست اور قانونی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح ریمانڈ احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ سنایا، جو کہ قانونی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیے توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14،14 برس قید کی سزا، 10 سال کے لیے نااہل
درخواست کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو مقدمے کی مکمل جانچ پڑتال کرنے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم ٹرائل کورٹ نے ان ہدایات پر عمل کیے بغیر فیصلہ سنا دیا۔
بانی پی ٹی آئی نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ٹرائل کورٹ کا فیصلہ سنانا نہ صرف غیر قانونی تھا بلکہ یہ عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز بھی تھا۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کی پوری کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی درخواست زیر سماعت ہونے کے باعث سپریم کورٹ نے اگست 2023 میں اس کیس کی سماعت مؤخر کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے توشہ خانہ کیس 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17- 17 سال قید اور جرمانے کی سزا
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ 9 فروری کو سماعت کرے گا، جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔
کیس کی آئندہ سماعت کو قانونی اور سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، جہاں اس فیصلے کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔














