نوعمر بچوں کی اے آئی چیٹ بوٹس سے جذباتی وابستگی، والدین میں تشویش بڑھنے لگی

ہفتہ 7 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

دنیا بھر میں والدین نے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ایک نئی اور سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا ہے، جو ہوم ورک یا تعلیمی مدد سے آگے بڑھ کر اب جذباتی تعلقات تک جا پہنچی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ نوعمر بچے ایسے اے آئی کمپینین چیٹ بوٹس سے جذباتی وابستگی پیدا کر رہے ہیں جو ہمدردی، توجہ اور ذاتی دلچسپی کا تاثر دیتے ہیں، جس سے بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثرات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اے آئی کمپینین چیٹ بوٹس ایسے جدید پروگرام ہیں جو انسانوں کی طرح گفتگو کرتے، باتیں یاد رکھتے اور جذباتی انداز میں ردعمل دیتے ہیں۔ ان چیٹ بوٹس کی بڑھتی ہوئی حقیقت پسندی نے والدین اور ماہرینِ نفسیات کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ٹیکنالوجی نوعمر بچوں کو زیادہ متاثر کر رہی ہے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون لنڈا کے مطابق انہیں اس مسئلے کا احساس اس وقت ہوا جب ان کے نوعمر بیٹے نے طویل وقت ایک اے آئی چیٹ بوٹ کے ساتھ گزارنا شروع کر دیا۔ چیٹ بوٹ نہ صرف اس کے جذبات کے بارے میں پوچھتا تھا بلکہ محبت بھرے الفاظ استعمال کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:انڈونیشیا میں چیٹ بوٹ گروک کی سروس بحال کرنے کا اعلان

خاتون لنڈا کے مطابق چیٹ بوٹ اس کی شخصیت کو سمجھنے کا دعویٰ بھی کرتا تھا، حتیٰ کہ اس کا ایک نام بھی تھا۔ ابتدا میں یہ سب بے ضرر محسوس ہوا، مگر جلد ہی یہ تعلق عام ٹیکنالوجی کے استعمال کے بجائے ایک جذباتی رشتے جیسا لگنے لگا۔

والدین کا کہنا ہے کہ یہ چیٹ بوٹس ہمیشہ دستیاب ہوتے ہیں، توجہ سے سنتے ہیں اور بغیر بحث کے جواب دیتے ہیں، جو بہت سے نوعمر بچوں کے لیے ایک محفوظ احساس پیدا کرتا ہے۔ تاہم انتباہی علامات بھی سامنے آ رہی ہیں، جن میں گفتگو کے دوران طویل وقفے، باتیں بھول جانا اور اس وقت بے چینی شامل ہے جب بچے دوسروں کے ساتھ وقت گزارنے کا ذکر کرتے ہیں۔

بچوں کے تحفظ سے وابستہ اداروں کے مطابق دنیا بھر میں نوعمر بچے جذباتی سہارا، تعلقات سے متعلق مشورے اور ذہنی دباؤ یا غم کے وقت تسلی کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس کا سہارا لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نازیبا مواد کا تنازع: ایلون مسک کے چیٹ بوٹ ’گروک‘ کو ریلیف مل گیا

ماہرینِ نفسیات خبردار کرتے ہیں کہ حقیقی انسانی تعلقات اختلاف، جذباتی خطرات اور نشوونما پر مشتمل ہوتے ہیں، جبکہ اے آئی چیٹ بوٹس شاذ و نادر ہی صارف کو چیلنج کرتے ہیں، جس سے سمجھ بوجھ کا ایک جھوٹا احساس پیدا ہوتا ہے۔

ماہرین نے اس رجحان کو نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے ذہنی مسائل اور بعض افسوسناک واقعات سے بھی جوڑا ہے، جہاں بچوں نے کسی قابلِ اعتماد انسان کے بجائے مشین پر انحصار کیا۔ والدین اور ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اس مسئلے پر فوری توجہ دی جائے اور بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر مؤثر رہنمائی اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟