کچھ بسنت اور گڈی اڑانے سے متعلق

اتوار 8 فروری 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گڈی اڑانے اور گڈی لوٹنا دونوں سے  میرا دور دور کا بھی تعلق نہیں رہا، اس کے باوجود لاہوری بسنت کے رنگ دل سے بہت قریب ہیں۔

   میں شاید بچپن ہی سے بڑھاپے کے جراثیم لے کر پیدا ہوا یا معلوم نہیں کوئی اور وجہ کہ  بچپن، لڑکپن میں بھی بہت سی شرارتیں ایسی نہیں کیں جن کی سزا گھر والوں سے ملے۔ سادہ سا سوال اپنے آپ سے ہوتا کہ اگر ایسا کرنے سے پھینٹی لگ جائے گی تو پھر ایسا کیوں کیا جائے؟

  ہمارے آبائی علاقہ احمد پور شرقیہ میں جسے ہم قصبہ یا چھوٹے شہر کی جگہ صرف شہر کہنا پسند کرتے ہیں، وہاں شہر سے باہر ایک نہر بہتی ہے۔ لڑکے بالے گھر والوں سے چھپ چھپا کر وہاں جاتے اور گھنٹوں نہاتے، گرمیوں میں تربوز وغیرہ لے کر جاتے، نہر کے ٹھنڈے پانی میں کچھ دیر ڈبو کر رکھنے سے تربوز ٹھنڈا ہوجاتا، اسے کھاتے اور اسے ہی ساونی قرار دیتے۔

برسبیل تذکرہ ساونی ہمارے ہاں ایک خاص قسم کی فیسٹویٹی ہے، عام طور سے ساون کے مہینے میں جب رم جھم ہو، تب لوگ آم لے کر کسی باغ، باغیچے میں بیٹھ کر آم ٹھنڈے پانی کے ٹب میں بھگو کر یخ بستہ کرتے اور پھر ان کی لذت سے لطف اٹھاتے، گپ شپ لگتی۔ افورڈ کرنے والے باذوق لوگ آم سے پہلےدیسی ککڑ  ذبح کر کے کڑاھی گوشت بھی اڑایا کرتے۔

   بات نہر کی ہو رہی تھی، میرا بڑا بھائی ہمیشہ نہر نہانے جاتا اور خیر سےکوئی  پانچ سات سو بار والد نے اسے پھینٹی لگائی تھی، مگر خان صاحب کی استقامت کے کیا کہنے، وہ اپنی وضع پر سدا قائم ہی رہے۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک دن میرا  کزن بھی گھر آیا ہوا تھا، نہر پر جانے کا پروگرام بنا اور مجھے بھی قائل کر کے ساتھ لے جایا گیا۔ طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ نہانے کے لیے بڑی سی نیکر پہن کر چھلانگ لگا دی جاتی۔ شلوار قمیص کے اندر ہی وہ نیکر اور بڑی سی بنیان چپکے سے پہن کر ہم نکل گئے، نہر میں نہائے۔ مزا تو بہرحال آیا۔ جب واپس آئے تو آنے سے پہلے کسی جگہ رک کر اچھی طرح پاؤں اور چپل دھوئے کہ کہیں مٹی کا ذرہ بھی نہ رہ جائے، بال سلجھا کر بیبے بچے بن کر گھر داخل ہوئے، گیلی نیکریں، بنیان جو گھٹری بنا کر ساتھ لائے تھے، وہ چپکے سے پہلے ہی گھر کی ایک سائیڈ سے اندر پھینک دی تاکہ کوئی اسے نہ دیکھ سکے۔ خیر اپنی طرف سے  مطمئن تھے،مگر جیسے ہی والد صاحب عدالت سے گھر لوٹے، تو والدہ نے چپکے سے انہیں خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ تھما دی۔ انہوں نے ہم دونوں بھائیوں کو بلایا اور خاصی معقول قسم کی پٹائی کی۔ کزن خوش قسمت تھا کہ جلدی رفو چکر ہوگیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ گرمیوں میں نہر میں نہانے سے چہرے کا رنگ کچھ سرخ ہوجاتا ہے، آنکھیں بھی۔ والدہ کو اندازہ ہو گیا کہ ان کے سپوت کیا گل کھلا کر آئے ہیں۔

    اس دن کے بعد میں نے توبہ کی کہ آئندہ کبھی اس نہر میں نہانے نہیں جانا۔ مجھے جب بھی کوئی دوست بھائی یا کزن کہتا تو جواب یہی ہوتا کہ جب واپسی پر مار ہی کھانی ہے تو تف ہے ایسی تفریح پر۔ اس کا نقصان خیر یہ ہوا کہ ہم سوئمنگ کبھی نہ سیکھ پائے، جبکہ بھائی صاحب ماہر تیراک بن گئے۔ خیر تیراکی جانے بغیر بھی ہم نے عمر کی نصف صدی گزار ہی لی، باقی بھی ان شااللہ اچھے سے گزر ہی جائے گی۔

   یہی معاملہ گڈی اڑانے کا تھا۔ ہمارے سرائیکی وسیب (علاقے)میں نجانے کیوں گرمیوں میں پتنگ اڑانے کا رواج ہے۔ لاہور اور اپر پنجاب میں تو فروری بسنت کا مہینہ سمجھا جاتا ہے، ہماری طرف یہ بسنت ٹائپ پتنگ بازی گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوتی ہے، مئی سے جون ، جولائی اگست تک۔ سخت گرمی میں عین دوپہر کے وقت جسے لاہوری ِشکر دوپہر کہتے ہیں، اس میں لڑکے چھتوں پر چڑھ کر پتنگ اڑاتے۔ گرمیوں میں سرائیکی شہروں بہاولپور، ملتان، ڈی جی خان وغیرہ میں گرم مگر تیز ہوا چلتی، جس سے پتنگ اڑانے میں آسانی رہتی۔

  اب ظاہر ہے والدین کے لیے یہ بڑا تکلیف دہ تھا کہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ میں بچے چھتوں پر شدید دھوپ کے ایکسپوژر میں پتنگیں اڑا کر بیمار پڑ جائیں۔  تو آپ اور ہم سب (بومرز، جنریشن ایکس، ملینئم بلکہ جین زی والے بھی )جانتے ہیں کہ والدین کے پاس اپنی نئی نسل کی بہترین ٹریٹمنٹ کے لیے لتر پریڈکرانا ہی سب سے موزوں نسخہ ہے۔ ہر مسئلے، ہر بیماری، ہر شکایت کا ایک ہی علاج۔ جو لڑکے مستقل مزاج ہوتے، وہ سینکڑوں ہزاروں بار  پٹنے کے بعد بھی پتنگیں اڑاتے رہتے ۔ ہم نے ایک آدھ پھینٹی کے بعد ہی پتنگ بازی پر تین حرف بھیجے اور سمجھ لیا کہ یہ شرفا کا کام نہیں۔ اس بات سے کبھی قائل نہیں ہوسکا کہ جس شرارت یا حرکت کے بعد پٹائی یقینی ہے تو وہ آخر کی ہی کیوں جائے؟

  میں تو شدید ناراضی میں بھی کبھی کھانے کا بائیکاٹ کرنے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ میرے بھائی کا یہ پسندیدہ حربہ تھا۔ میں نے ایک آدھ بار اس پر غور فرمایا، خاصے تفصیلی اور گہرے تجزیے کے بعد یہ سوچا کہ غصہ بھی مجھے ہے اور کھانا بھی میں نہ کھاؤں؟ وہ کیوں؟ مجھے تو اس کے بجائے یہ زیادہ مناسب حربہ لگا کہ اس روز ایک کے بجائے دو یا دو کے بجائے تین روٹی کھا کر گھر والوں سے بدلا لیا جائے ۔ کوشش کی جائے کہ اس روز سالن کی ایکسٹرا پلیٹ مانگی جائے ۔ گھر والے اس خیال سے کہ بچہ ناراض ہے، انکار بھی نہ کرتے اور ہم اپنی دانست میں خاموش انتقام لے رہے ہوتے۔  تو یارو ہمیں تو اس ’پریکٹیکل‘ سوچ نے گڈی اڑانے سے دور ہی رکھا۔ ہمیں گڈیوں کی اقسام کا پتہ چلا اور نہ متنوع قسم کی ڈور سے واقفیت ہو پائی۔ ایک تاوا، ڈیڈھ تاوا، تین تاوا،سادہ پتنگ، گڈا اور نجانے کیا کیا نام ہیں ان کے۔

  گڈیوں، پتنگوں اور بسنت سے ہمارا واسطہ لاہور میں پڑا۔ جب فروری چھیانوے میں صحافت کرنے لاہور وارد ہوئے ۔ پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ بسنت کا یہ عروج تھا۔ تب یہ عوامی تہوار تھا، مگر پھر جنرل مشرف کے دور میں اسے ایک خاص انداز کی حکومتی سرپرستی نصیب ہوئی تو اس میں کارپوریٹ رنگ اور ممی ڈیڈی یعنی برگر کلچر شامل ہوگیا۔ تب فائیو سٹارز ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر بسنت پارٹیز ہونے لگیں۔

  بسنت کا اصل مزا مگر محلوں میں تھا۔ میں تب بی بی پاکدامن، مغلپورہ میں مقیم تھا جو کہ ایک محلہ ہی تھا۔ وہاں بسنت کا عوامی لطف تھا جس میں خالص پن تھا اور بے ساختگی بھی۔ شادی سے پہلے ایک آدھ بار بسنت منانے گوالمنڈی لوہاری اور ایک بار راوی روڈ بھی گئے۔ وہاں بھی اچھا لگا۔ اندرون شہر کے علاقوں کا اپنا ہی خاص فلیور ہے۔ جوش چونکہ بے پناہ ہوتا ہے اس لیے لڑائی جھگڑے بھی ہوتے بلکہ کئی گوالمنڈی کے مکین اپنے بچوں کو بسنت کے لیے سمن آباد، اقبال ٹاؤن وغیرہ بھیجتے کہ کہیں یہاں رہے تو کوئی لڑائی نہ ہوجائے۔

  اپنے لڑکپن میں پتنگیں نہ اڑانے کے باوجود ایک کام کے لیے ہماری خدمات حاصل کی جاتیں، وہ تھی کَنی دینا۔ پتنگ اڑانے والے جانتے ہیں کہ عام طور سے کسی لمبے لڑکے کی ذمہ داری لگتی ہے جو پتنگ کو اپنے سر سے اونچا کر کے اسے ہوا میں اچھال دے اور پھر اڑانے والے اسے کمال مہارت کے ساتھ نچا نچا کر ہوا میں اڑاتا، دھیرے دھیرے ڈور چھوڑی جاتی ہے تاکہ پتنگ ہوا کے ساتھ اڑتی جائے۔ اپنے چھ فٹ پلس قد کے ساتھ کَنی دینے کا میں ایکسپرٹ تھا،اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ البتہ لاہور میں بسنت کے دنوں میں بعض اوقات یہ ہوا کہ کسی دوست جس نے پتنگ ہوا میں خوب اونچی اڑا لی، اس نے چند لمحوں کے لئے ڈور تھما دی اور ہم نے بھی تھوڑی بہت دل پشوری کر لی۔ تب اندازہ ہوا کہ پتنگ اڑانا کس قدر مزے کا کھیل ہے اور کیوں نوجوان اس کے دیوانے ہیں۔ بسنت نے میری پتنگوں میں دلچسپی پیدا کر دی اور قریب تھا کہ ہم بھی اس کے کچھ گر سیکھ جاتے کہ پھر اس میں اتنے زیادہ المناک حادثے اور اموات ہونے لگیں کہ باقاعدہ طور پر پابندی لگا دی گئی۔

  دنیا بھر میں پتنگ اڑانا ایک سادہ کھیل کے طور پر لیا جاتا ہے، ہمارے ہاں اس میں مقابلہ بازی کا عنصر شامل ہوگیا ہے۔ بسنت پر زیادہ ایشو ہی اسی وجہ سے بنا تھا۔ لوگ اپنی پتنگوں کی ڈور آپس میں لڑا کر دوسرے کی پتنگ کاٹنا چاہتے ہیں، اس مقصد کے لیے تیز اور پھر بہت تیز ڈور بنانے کی کوششیں ہوئیں۔ پہلے دھاگے کے ساتھ شیشہ ڈالا جاتا اور پھر ڈور کو مزید تیز اور مہلک بنانے کے لیے شیشے کے ساتھ کیمیکل ڈالا جانے لگا۔ اس سے وہ خطرناک ڈور وجود میں آئی جس سے موٹر سائیکل سواروں کی گردنیں کٹنے لگیں اور اسی وجہ سے بسنت ہی بین ہوگئی ۔

  ایک اور مصیبت ڈور کے ساتھ تانبے کی تار  باندھ کر اڑانا ہے۔ یہ کام رات کو ہوتا۔ کاریگر پتنگ باز خاموشی سے سیاہ رنگ کی پتنگ اڑاتے تاکہ اندھیرے میں پتنگ کا پتہ ہی نہ چلے۔ پتنگ کے ساتھ کچھ حصہ تانبے کی تار کا ہوتا، باقی ڈور پر مشتمل ہوتا۔ مقصد یہ تھا کہ تانبے کے ساتھ دوسری پتنگ کی ڈور چپک جائے۔ یہ لوگ ہوشیاری کے ساتھ اپنی سیاہ پتنگ کسی دوسری پتنگ کے ساتھ قریب کر دیتے اور پھر اس کی ڈور ان کے ساتھ ہی چپک کر ان کے پاس آ گرتی۔ اس میں مشکل یہ تھی کہ جب کبھی یہ تانبے کی تار والی پتنگ کٹ جاتی اور وہ بجلی کے ٹرانسفارمر پر گرتی تو ٹرانسفارمر ٹرپ کر جاتا۔یوں بجلی کا بحران شروع ہوجاتا۔

  اس بار حکومت نے بیس پچیس سال کے بعد بسنت کو کامیاب بنانے کی خاطر بے پناہ سختی کی ہے۔ پتنگوں اور ڈور کے ساتھ کیو آر کوڈ لگا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ اگر کسی کی کیمیکل والی ڈور پکڑی جائے تو فوری طور پر اسے بنانے والے کا پتہ چل سکے اور اس پر مقدمہ کرنا آسان ہوجائے۔ ایک نقصان تو بہرحال یہ ہوا ہے کہ پولیس نے خوب مال بنایا ہے۔ سختی کے بہانے پولیس کو کروڑوں، اربوں بنانے کا موقعہ ملا ہے، مگر یہ ماننا پڑے گا کہ قانون پر عمل درآمد ہوا ہے۔ میں پچھلے دو تین دنوں سے دیکھ رہا ہوں، مجھے تو سو فی صد موٹرسائیکل ایسے نظر آئے جن کے آگے لمبی راڈ لگی ہوتی ہے تاکہ ڈور گردن پر نہ پھر جائے۔

  ہر ایک کی اپنی رائے ہوتی ہے، میرے خیال میں بسنت کو بطور فیسٹول منانے میں کوئی  مسئلہ نہیں۔ ویسے بھی ہر بات پر  مسئلہ پوچھنے مولوی صاحبان کے پاس جانے کی کوئی تُک نہیں۔ بعض چیزیں مقامی کلچر کا حصہ ہوتی ہیں اور اگر وہ شریعت کے مخالف نہیں تو کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔ بسنت بھی ایک مقامی تہوار ہے اور اس کے اوریجنل رنگ خوبصورت ہیں۔ بسنت میں کیمیکل ڈور، تانبے والی ڈور اور غیر شائستہ ہلڑبازی کا خاتمہ کر دیا جائے تو یہ ایک خوبصورت تہوار ہے۔

    اس بار پنجاب حکومت نے کوشش تو بہت کی ہے، اللہ کرے سب خیر رہے اور یہ کامیابی سے نمٹ جائے۔ اسلام آباد میں بم دھماکے نے اس کے رنگ پھیکے کر دئیے ہیں۔ دھماکے کے بعد سوگ کے طور پر پنجاب حکومت نے تمام سرکاری تقریبات منسوخ کر دیں۔ میں نے کہیں پڑھا کہ تحریک انصاف نے اپنا احتجاج بھی اسلام آباد بم دھماکے کے بعد موخر کر دیا ہے۔ دونوں طرف سے اچھا فیصلہ کیا گیا۔ بسنت پر لوگوں کا اتنا سرمایہ لگ چکا ہے کہ اگر اس پر مکمل پابندی لگائی جاتی تو اربوں روپے ڈوب جانے تھے۔ اس لیے نجی سطح پر پابندی نہیں لگائی گئی، حکومت البتہ اس کا حصہ نہیں بن رہی۔ یہ ٹھیک ہے، اللہ کرے آخری دن سکون سے بخیر گزر جائے ، آمین۔  آئندہ سال امید ہے کہ زیادہ بہتر پلاننگ اور منظم طریقے سے یہ فیسٹول منایا جا سکے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دبئی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن متاثر، ٹوکیو سے آنے والی ایمریٹس ایئرلائن کی پرواز بھارتی ایئرپورٹ پر اتری

کراچی: جسم فروشی کے لیے 33 خواتین کو بیرون ملک بھجوانے کی کوشش ناکام بنادی گئی

وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کردیا

پاکستان کے پاس تیل کے ذخائر کتنے اور معیشت کی صورتحال کیا، وزرارت خزانہ نے بتادیا

کفایت شعاری اقدامات: سینیٹ سیکریٹریٹ میں 700 سے 750 ملین روپے کی بچت ممکن

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا