بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات اور ملک گیر ریفرنڈم سے قبل امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اتوار سے فوج کو تمام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعینات کر دیا گیا ہے۔
الیکشن حکام کے مطابق یہ اقدام شفاف، پرامن اور منظم انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
فوج 7 دن قبل اور بعد تک تعینات رہے گی
الیکشن کمشنر عبدالرحمان المسعود نے بتایا کہ فوج پہلے محدود کردار میں موجود تھی، تاہم اب اسے باضابطہ طور پر ووٹنگ سے 7 دن قبل اور 7 دن بعد تک تعینات کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو انتخابات کے لیے موزوں قرار دیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پولیس، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (BGB)، انصار اور ولیج ڈیفنس پارٹی (VDP)، کوسٹ گارڈ ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) اور دیگر فورسز کو ملک بھر میں تعینات کیا جائے گا۔ فوج سول پاور کی معاونت کے تحت فرائض انجام دے گی۔
9 لاکھ 70 ہزار سے زائد اہلکار متحرک
حکام کے مطابق ملک بھر میں 9 لاکھ 70 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں 5 لاکھ 76 ہزار سے زائد انصار اور VDP اہلکار تقریباً 1 لاکھ 3 ہزار فوجی 1 لاکھ 87 ہزار پولیس اہلکار بحریہ، فضائیہ، RAB، BGB، کوسٹ گارڈ اور مقامی معاون فورسز شامل ہیں۔
پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی انتظامات
سیکیورٹی پلان کے تحت دیہی علاقوں میں ہر پولنگ اسٹیشن پر 15 سے 16 اہلکار حساس مقامات پر 17 سے 18 اہلکار شہری علاقوں میں عام مراکز پر 16 اہلکار جبکہ حساس اور ہائی رسک پولنگ اسٹیشنز پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔ دور دراز اور خصوصی علاقوں میں مزید سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
کوسٹل اور حساس علاقوں میں خصوصی فورسز
کوسٹ گارڈ کو ساحلی علاقوں کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ RAB، BGB، مسلح پولیس بٹالینز اور انصار یونٹس اضلاع، تحصیلوں اور تھانوں کی سطح پر خدمات انجام دیں گی۔ تمام فورسز متعلقہ ریٹرننگ افسران کے ماتحت کام کریں گی۔
13ویں پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے پولنگ 12 فروری کو صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک ہوگی، جبکہ سیکیورٹی تعیناتی 8 سے 14 فروری تک برقرار رہے گی۔
حکام کے مطابق سیکیورٹی کی یہ غیر معمولی تعیناتی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں کسی بھی ممکنہ بدامنی کو روکنے اور قابلِ اعتماد انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔














